حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 226 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 226

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 226 ہیں یا کبھی اللہ تعالیٰ کا بیٹا بھی آیا ہے اور خلت کا لفظ اسطرف توجہ دلاتا ہے کہ جہاں تک تمہاری نظر تاریخی سلسلہ کو دیکھنے کیلئے وفا کر سکتی ہے اور تم گذشتہ لوگوں کا حال معلوم کر سکتے ہو خوب سوچو اور سمجھو کہ کبھی سلسلہ ٹوٹا بھی ہے کیا تم کوئی ایسی نظیر پیش کر سکتے ہو جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ امرممکنات میں سے ہے پہلے بھی کبھی کبھی ہوتا آیا ہے۔سو عقلمند آدمی اس جگہ زرا ٹھہر کر اللہ جل شانہ کا خوف کر کے دل میں سوچے کہ حادثات کا سلسلہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کی نظیر بھی کبھی کسی زمانہ میں پائی جائے۔جنگ مقدس صفحه 9 - روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) آپ علیہ السلام نے فرمایا: خدا کا کوئی فعل اس کی قدیم عادت سے مخالف نہیں اور عادت کثرت اور کلیت کو چاہتی ہے اگر در حقیقت بیٹے کو بھیجنا خدا کی عادت میں داخل ہے تو خدا کے بہت سے بیٹے چاہئیں تا عادت کا مفہوم جو کثرت کو چاہتا ہے ثابت ہوتا بعض بیٹے جنات کے لئے مصلوب ہوں اور بعض انسانوں کیلئے اور بعض ان مخلوقات کیلئے جو دوسرے اجرام میں آباد ہیں۔یہ اعتراض بھی ایسا ہے کہ ایک لحظہ کے لئے بھی اس میں غور کرنا فی الفور عیسائیت کی تاریکی سے انسان کو چھوڑ دیتا ہے۔کتاب البریہ صفحه ۵۹ - ۶۰ - روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) یہ دلیل جب عیسائی صاحبان کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور مثال مانگی جاتی ہے تو مسیح علیہ السلام کی ہی مثال پیش کر دیتے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور یہ کہو کہ آگے تو نہیں آیا مگر اب تو آ گیا ہے تو فن مناظرہ میں اس کا نام مصادره علی المطلوب ہے یعنی جو امر متنازعہ فیہ ہے اس کو بطور دلیل پیش کر دیا جائے مطلب یہ ہے کہ زیر بحث تو یہی امر ہے کہ حضرت مسیح اس سلسلہ متصلہ مرفوعہ کوتو ڑ کر کیونکر بحیثیت ابن اللہ ہونے