حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 225
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل آنا استقراء کے خلاف ہے۔اور اس دلیل کو قرآن کریم کی آیت 225 مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔(سورة المائده : آیت (۷۶) میں بیان فرمایا گیا ہے۔آپ علیہ السلام نے استقراء کی یہ تعریف بیان فرمائی کہ : استنقرا اس کو کہتے ہیں کہ جزئیات مشہودہ کا جہاں تک ممکن ہے تتبع کر کے باقی جزئیات کا انہی پر قیاس کر دیا جائے یعنی جس قدر جزئیات ہمارے سامنے ہوں یا تاریخی سلسلہ میں ان کا ثبوت مل سکتا ہو تو جو ایک خاص شان اور ایک خاص حالت قدرتی طور پر وہ رکھتے ہیں اس پر تمام جزئیات کا اس وقت تک قیاس کر لیں جب تک ان کے مخالف کوئی اور جز کی ثابت ہو کر پیش نہ ہو۔“ جنگ مقدس صفحہ ۳۱ ۳۲ - روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) پھر استدلال فرماتے ہیں کہ: مسیحی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح ایک رسول اور نبی تھے اب نظر ڈال کر دیکھو تو ظاہر ہے سب نبی اور رسول انسان تھے اسی استقراء سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح بھی جو با اتفاق فریقین ( مسلمان و عیسائی ) رسول نبی تھے انسان ہی تھے کیونکہ کوئی رسول اور نبی خدا یا خدا کا بیٹا نہ تھا ( آپ علیہ السلام مزید وضاحت فرماتے ہیں) کہ قیاس استقرائی دنیا کے حقائق ثابت کرنے کیلئے اول درجہ کا مرتبہ رکھتی ہے۔تو اس جہت سے اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے قیاس استقرائی کو ہی پیش کیا ہے۔اور فرمایا ہے۔قد خلت من قبله الرسل۔یعنی حضرت مسیح بے شک نبی تھے اور اللہ جل شانہ کے پیارے رسول تھے مگر وہ انسان تھے تم نظر اٹھا کر دیکھو کہ جب سے یہ سلسلہ تبلیغ اور کلام الہی کے نازل کرنے کا شروع ہوا ہے ہمیشہ اور قدیم سے انسان ہی رسالت کا مرتبہ پا کر دنیا میں آتے رہے