حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 223
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - انا جیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معجزات الوہیت کا نہیں بلکہ ایمان کا ثبوت ہیں۔متی باب ۱۰ آیت ا میں لکھا ہے: پھر اس نے بارہ شاگردوں کو پاس بلا کر ان کو ناپاک روحوں پر اختیار بخشا کہ ان کونکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری دور کریں۔“ مرقس باب ۱۶ آیت ۱۲ تا ۱۸ میں لکھا ہے: ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے وہ میرے نام سے بدروحوں کو نکالیں گے۔نئی نئی زبانیں بولیں گے سانپوں کو اٹھالیں گے کوئی ہلاک کرنے والی چیز پئیں گے تو ان کو کچھ ضرر نہ ہوگا۔وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو اچھے ہو جائیں گے۔اسی طرح یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۲ میں لکھا ہے : میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام میں جو کرتا ہوں وہ بھی کرے گا کیوں کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں 223 چنانچہ بعض اوقات منجزات اور نشانات ثبوت الوہیت تو کیا ثبوت صداقت بھی نہیں ہوتے۔جیسا کہ مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں: کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔“ ( متی باب ۲۴ آیت ۲۴) انجیل کا مندرجہ ذیل اقتباس عیسائی صاحبان کی ان تمام موشگافیوں کیلئے جودہ الوہیت مسیح کے ثابت کرنے کیلئے کرتے ہیں ایک عمدہ تبصرہ ہے۔لکھا ہے: اگر چہ انہوں نے خدا کو مان لیا ہے مگر اس کی خدائی کے لائق اس کی بڑائی اور