حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 217
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل گئے لکھا ہے کوئی آسمان پر نہیں گیا۔پھر لکھا ہے مسیح پہلے بھی آسمان ہی سے آیا تھا۔217 ( یوحنا باب ۲ آیت ۱۳) ( یوحنا باب ا آیت ۳۸ اور باب ۶ آیت ۶۲ ۶۳) لہذا جیسے وہ پہلے روحانی طور پر آسمان سے آیا تھا ویسے ہی روحانی طور پر اس کا رفع ہوا نہ کہ بزعم یہود صلیب پر مارے جانے کے بعد ملعون ہوا اور جیسا کہ انہوں نے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے جگہ تیار کرنے جاتا ہوں۔( یوحنا باب ۱۴ آیت ۳۲) آپ روحانی طور پر مرفوع ہو کر خدا کے مقرب ٹھہرے اور آپ کے شاگرد بھی جو آپ کے ساتھ تھے روحانی طور پر مرفوع ہوئے۔عیسائی صاحبان یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں چونکہ آپ کو روح اللہ“ کہا گیا ہے اور اسی طرح ”روح منہ“ کے الفاظ بھی بیان ہوئے ہیں کلمة اللہ بھی کہا گیا ہے لہذا آ۔خدائی مقام پر فائز ہیں۔پس قرآن کریم میں کلمہ اور روح کے وہی معنی لینے درست ہوں گے جن معنوں میں قرآن مجید نے ان الفاظ کو استعال کیا ہے۔قرآنی معنوں کو چھوڑ کر خود سے کچھ معنے کرنا کس طرح درست ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم نے مسیح کا مقام صرف رسول نبی اسرائیل قرار دیا ہے انہیں ہرگز ذات الہ بیان نہیں کیا۔پھر قرآن کریم کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے کلمات تو بے شمار ہیں۔فرماتا ہے: قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَتَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ گلِممْتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًاه (سورة الكهف آیت ۱۱۰)