حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 21 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 21

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل 21 نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ (سورة المائده: آیت ۷ ۱ ۱ ) قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیات کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاں جہاں بھی مخاطب فرمایا ہے ، ابن مریم ہی کہا ہے کیونکہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور جسم کے لحاظ سے آپ کا تعلق صرف حضرت مریم علیہا السلام سے تھا۔اسی لئے آپ کو مریم کا بیٹا بیان کیا گیا ہے۔اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عرف عام میں آپ ابن مریم ہی مشہور تھے۔آپ کے حواری بھی آپکو عیسی ابن مریم کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔اب ہم اناجیل کے نسب ناموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اور ان کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔متی کا نسب نامہ متی کی انجیل باب اول آیت ایک تا۱۷ میں لکھا ہے : یسوع مسیح ابن داؤد ابن ابراھام کا نسب نامہ۔ابراھام سے اضحاق پیدا ہوا۔اور اضحاق سے یعقوب پیدا ہوا اور یعقوب سے یہودا اور اسکے بھائی پیدا ہوئے اور یہودا سے فارص اوزارح تمر سے پیدا ہوئے۔اور فارص سے حصرون پیدا ہوا اور حصرون سے رام پیدا ہوا اور رام سے عمید اب پیدا ہوا اور عمید اب سے نحسون پیدا ہوا اور نسون سے سلمون پیدا ہوا اور سلمون سے بوعز راحب سے پیدا ہوا۔بوعز سے عوبید روت سے پیدا ہوا اور عوبید سے یتسی پیدا ہوا اور یسی سے داؤد بادشاہ پیدا ہوا۔اور داؤد سے سلیمان اس عورت سے پیدا ہوا جو پہلے اور یا کی بیوی تھی۔اور سلیمان سے رحبعام پیدا ہوا اور رحبعام سے ابیاہ پیدا ہوا اور ابیاہ سے آسا پیدا ہوا۔اور آسا سے یہو سفط پیدا ہوا اور یہو سفط سے یورام پیدا ہوا اور یورام سے عز یاہ پیدا ہوا اور عزیاہ سے یو تام پیدا ہوا اور یوتام سے آخر