حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 198 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 198

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 198 انہوں نے پولوس کا کلام شرک سمجھا کہ تم صحیح کے ہو اور مسیح خدا کا ہے۔ہر ایک مرد کا سرمسیح ہے اور مسیح کا سرخدا ہے۔" (1 کرنتھیوں باب ۳ آیت ۳۳ باب ۱۱ آیت ۳) حواری سوائے باپ کے کسی کو خدا نہ کہتے تھے۔”ہمارا ایک خدا ہے جو باپ ہے۔“ (کرنتھیوں باب ۸ آیت ۴) پس اس اکیلے بچے خدا کی تعریف وہ مبارک اور اکیلا حاکم ہے بادشاہوں کا بادشاہ۔خداوندوں کا خدا ہے۔بقا صرف اس کو ہے وہ اس نور میں رہتا ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔اور اسے کسی انسان نے نہ دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔اس کی عزت اور اس کی سلطنت ابد تک رہے گی۔آمین۔( ا تيمتهیس باب ۶ آیت ۱۵-۱۶) پس اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں کہ مسیح علیہ السلام خود بھی اور آپ کے ماننے والے خصوصاً ابتدائی عیسائی بھی تو حید خالص پر عمل پیرا تھے اور ایمان رکھتے تھے۔وہ کسی اقنوم ثانی کے تصور کو نہ جانتے تھے اور تورات کے تابع فرمان ہوتے ہوئے مسیح کو خدا تعالیٰ کا فرستادہ اور مقرب الہی اور فنا فی اللہ انسان سمجھتے تھے اور عہد نامہ قدیم کے مروجہ محارہ کے مطابق آپ کو ابن اللہ کہتے تھے۔موجودہ عیسائیت کے دلائل دربارہ الوہیت مسیح علیہ السلام اور اس کی حقیقت موجودہ عیسائیت انا جیل کے جن مقامات سے مسیح علیہ السلام کی الوہیت ثابت کرتی ہے اب ہم ان مقامات کا جائزہ لیتے ہیں سب سے قبل تو یوحنا کی انجیل کے آخری ابواب میں سے ۲۰ باب آیت ۲۸ کو پیش کیا جاتا ہے: تو مانے جواب میں اس سے کہا : اے میرے خداوند اے میرے خدا۔