حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 194 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 194

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 194 ہے اور صرف اس کی پرستش کرنی چاہے۔اس نے خود یہ کبھی نہ کہا کہ وہ اللہ ہے۔وہ بھیجا تو اس غرض سے گیا تھا کہ متعدد خداؤں کی پرستش دور کرے اور واحد خدا کی پرستش کو قائم کرے اور اگر وہ کہتا کہ میں خدا ہوں تو وہ خدا کے پہلو بہ پہلو ایک اور کو لا کھڑا کرتا۔اور بے وفائی کرتا ایسا کرنا واحد خدا کا وعظ کہنا اور اس کی منادی کرنا نہ ہوتا بلکہ اس جگہ جس نے اُسے بھیجا اپنے آپ کو آگے بڑھا کر اس کے مقام کو جس کے اظہار کے لئے وہ آیا تھا غصب کرتا اور اپنے تئیں اس سے جدا کر لینا ہوتا۔صرف اس وجہ سے کہ اس نے اپنے کو وفادار ثابت کیا اور کسی قسم کی ناواجب بڑائی اپنے لئے اختیار نہ کی اور جس نے اسے بھیجا تھا اس کے احکام کو بجالانے کیلئے وقف کر دیا تھا اسے یہ صلہ دیا گیا کہ ہمیشہ ہمیش کیلئے کا ہن کی عزت بخشی گئی اور شہنشاہ کا مقام بخشا گیا اور منصف کا اختیار اور خدا کا نام بخشا گیا۔(کتاب The Origin of Christianity صفحه 183 مطبوعہ لندن ) مذکورہ بالا حوالہ درج کرنے کے بعد صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ اس سے یقینی بات کوئی اور نہیں ہوسکتی کہ ابن اللہ کا لقب جو کہ ابتدائی عیسائی تحریرات میں استعمال ہوا ہے۔اس سے مراد محض خادم خدایا مسیح ہے۔ابن اللہ کے لقب کا مقام الوہیت کا مظہر اس وقت قرار دیا گیا جب عیسائیت کا پیغام مشرک اقوام تک پہنچا اور وہ حلقہ بگوش عیسائیت ہونے لگے ان کے ہاں چونکہ بادشاہوں اور شہنشاھوں کو خدائی کا درجہ اور الوہیت کا مقام دیا جاتا تھا۔اس لئے عیسائیوں میں بھی حضرت مسیح کی خدائی کا تصور پیدا ہو گیا۔پھر لکھتے ہیں کہ : ابتدائی عیسائیوں کا یہ راسخ عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جو یوحنا سے بپتسمہ لیا تھا اور ان پر روح القدس کا نزول ہوا اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے نبی بنائے گئے اور مسیح کے مقام پر فائز ہوئے اس ابتدائی عیسائی عقیدہ کو راسخ الاعتقاد عیسائی مورخین