حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 193 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 193

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 193 مسیح کو خدا کا حقیقی بیٹا اور اقنوم ثانی سمجھنے لگ گئے اور اس طرح راہ ہدایت سے دور جا پڑے مذکورہ عیسائی عالم نے بعض اور حوالے بھی درج کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی چنگاری ابتدائی صدیوں میں فروزاں تھی بالکل دب نہیں گئی تھی۔دوسری صدی کے نصف آخر میں ایک عیسائی رومی بیرسٹر M۔Minucins llix نے لاطینی زبان میں عیسائیت کے دفاع میں ایک مکالمہ رقم کیا ہے عیسائی تاریخ میں یہ سب سے پہلا تحریری دفاع ہے۔اس میں الوہیت مسیح کے الزام کی صاف لفظوں میں تردید کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ رومی اور یونانی اسطرح مصری فانی انسانوں کو خدا کے طور پر پوجتے ہیں۔ہم تو ایسا نہیں کرتے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم خدا کے فرستادے بندوں کو انتہائی عزت و تکریم کی نظر سے دیکھتے ہیں (182-181 The Origins of Christianity page) (مطبوعہ لندن) اسی طرح صاحب موصوف نے چوتھی صدی کے شروع کا ایک حوالہ دیا ہے چنانچہ Lactantius ایک لاطینی عیسائی عالم اپنی کتاب True wisdom میں لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے طریق عمل اور اس کے احکام کیا تھے اس کے متعلق نہ تو ہمیں اشتباہ میں چھوڑا گیا ہے اور نہ عدم واقفیت میں کیونکہ جب اللہ نے دیکھا کہ بدی اور جھوٹے معبودوں کے احکام نے لوگوں کے ذہنوں سے اس کا نام محو کر دیا ہے تو اس نے اپنے بیٹے کو جو فرشتوں کا سردار ہے اپنا خلیفہ بنا کر بنی نوع انسان کی طرف بھیجا تا کہ ان کو ناپاک اور باطل مذاہب سے ہٹا کر علم و حکمت اور کچے خدا کی پرستش کی طرف لاوے اور ایسا ہی ان کے ذہنوں کی جہالت سے عرفان کی جانب اور مجرمانہ کردار سے منصفانہ اعمال کی طرف راہنمائی کرے اللہ کی یہی راہیں ہیں جس پر اس نے یسوع کو گامزن ہونے کی ہدایت کی۔یہی احکام ہیں جنہیں نگاہ میں رکھنے کی اس نے تعلیم دی۔چنانچہ یسوع نے قابل تقلید طور پر اپنے اعتقاد کا مظاہرہ کیا۔کیونکہ اس نے تعلیم دی کہ اللہ واحد