حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 183
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل کہ اس گھر کو جسے میں نے اپنے نام سے مقدس کیا ہے اپنے سامنے سے دور کروں گا۔“ (تواریخ ۲ باب ۷ آیت ۲۰) اور حضرت مسیح علیہ السلام نے اس امر کی طرف یوں توجہ دلائی اور فرمایا: ”میری بات کا یقین کرو وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ اس پہاڑ پر باپ کی پرستش کرو گے اور نہ یروشلم میں۔“ ( یوحنا باب ۴ آیت ۲۱) 183 پس اس کی اہمیت کو خوب سمجھنے کی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام اور آپ کے ابتدائی حواریوں نے خانہ کعبہ کی زیارت کی جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔علاوہ ازیں بائیبل میں جو تحریف ہو چکی تھی اسکے متعلق بھی آپ نے اپنے حواریوں کو بتایا چنانچہ خطبات کلمنٹائین ابتدائی عیسائیوں کی ایک اہم دستاویز ہے اس میں لکھا ہے: و ہمیں اور ہمارے پیغمبر کو وہ نگاہ بصیرت دی گئی ہے جس کی وجہ سے ہم تو رات کے محرف حصوں کو صاف پہچان جاتے ہیں۔“ پھر لکھا ہے: تو رات میں ایسے بھی حصے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ کے خلاف باتیں ہیں اور انبیاء کرام کی شان میں ناروا بیانات تحریر کئے گئے ہیں۔ہمارا پیغمبر اسلئے مبعوث ہوا کہ تورات کے حقیقی اور محرف حصہ کے متعلق ہمیں مطلع کرے ہمارے پاس وہ کسوٹی ہے اور نگاہ انتخاب ہے جس سے ہم حق باطل میں فرق کر سکتے ہیں“ اس حوالے کی تائید انجیل بر باس سے بھی ہوتی ہے۔خاص حلقہ احباب میں فرمایا: اگر موسیٰ کی کتاب ہمارے باپ داؤد کی کتاب سمیت جھوٹے فریسیوں اور فقیہوں کی انسانی روایتوں کے ساتھ فاسد نہ کی جاتی تو خدا تعالیٰ ہرگز مجھے اپنا کلام عطانہ کرتا۔