حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 178 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 178

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - گیا ہے کہ عہد اسحاق کے ساتھ ہوا۔یسوع نے آہ سرد بھر کے جواب دیا: یہی لکھا ہے لیکن موسیٰ نے اس کو نہیں لکھا اور نہ یسوع نے۔بلکہ ہمارے احباب نے جبکہ وہ خدا سے نہیں ڈرتے۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم جبرائیل کے کلام مندرجہ توریت پر غور کرو گے تو تم کو ہمارے کاتبوں اور فقیہوں کی بد باطنی کا علم ہو جائے گا۔کیونکہ فرشتہ نے خدا تعالیٰ کا یہ پیغام دیا کہ اپنے پلو ٹھے بیٹے اسماعیل کو قربانی کے طور پر پیش کر پس اسحاق کیونکر پلوٹھا ہو سکتا ہے حالانکہ جب وہ پیدا ہوا تھا اس وقت اسماعیل کی عمر ۱۴ سال کی تھی۔تب اس وقت شاگردوں نے کہا بے شک فقیہوں کا دھو کہ صاف ظاہر ہے“ 178 (انجیل برنباس تلخیص فصل ۴۳-۴۴ تر جمہ اردو از محمد علیم انصاری ادارۃ اسلامیات، کراچی) اب انجیل برنباس کے اس حوالے کو متی کے حوالے کی روشنی میں دیکھیں تو یہ انجیل کا حصہ معلوم ہوتا ہے اور اس کے بعد متی کے حوالے کو زبور کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے موعود نبی کے متعلق ہی گفتگو فرمائی تھی نا کہ اپنے متعلق متی کہتا ہے: ” اور جب فریسی جمع ہوئے تو یسوع نے ان سے یہ پوچھا کہ تم مسیح کے حق میں کیا سمجھتے ہو؟ وہ کس کا بیٹا ہے؟ انہوں نے اس سے کہا داؤد کا۔اس نے ان سے کہا پس داؤد روح کی ہدایت سے کیونکر اسے خداوند کہتا ہے۔خداوند نے میرے خداوند سے کہا ” میری دھنی طرف بیٹھ جب تک میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کے نیچے نہ کر دوں۔پس جب داؤد اس کو خداوند کہتا ہے تو وہ اس کا بیٹا کیونکر ہوا ؟“ (متی باب ۲۲ آیات ۴۱ تا ۴۵) اب مسیح نے جوز بور کا حوالہ دیا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس پر صادق آتا ہے۔مسیح پر یا موعود نبی پر۔جس سے یہ پتہ چل جائے گا کہ مسیح نے یہودیوں سے اپنے متعلق پوچھا تھا یا آنے والے موعود نبی کے متعلق سوال کیا تھا ؟ لکھا ہے: