حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 177
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل اینٹ میں ہوں۔177 اللہ تعالیٰ نے آنحضرت علیہ کو آخری اور دائمی شریعت عطا فرمائی آپ بنو اسماعیل کے ایک فرزند تھے۔یہ بات بنی اسرائیل کو عجیب لگی لیکن بمطابق پیشگوئی حضرت مسیح علیہ السلام باوجود عجیب لگنے کے اور بنو اسرائیل کے ناپسند کرنے کے خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ارجمند کو بادشاہت روحانی کا وارث بنادیا اور بنی اسرائیل سے یہ انعام لے لیا اور یہ آسمانی بادشاہت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بنو اسماعیل کو اس لئے دی گئی تا کہ وہ اپنے وقت پر پھل لاویں۔پس آپ کی اس امت میں بکثرت اولیاء اور مجددین کا ہونا اور ہمارے زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد مسیح و مہدی علیہ السلام کا پیدا ہونا اور قادیان کی بستی سے پوری شان کے ساتھ اپنے وقت پر اس تازہ بتازہ پھل سے شجر محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کالڈ جانا ایک زندہ ثبوت ہے اس بات کا آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔اللھم صل علی محمد وآل محمد۔برنباس کی انجیل میں ایک بڑی واضح پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق موجود ہے۔اس میں لکھا ہے کہ عہد کا رسول بنی اسماعیل میں سے ہوگا چنانچہ (فصل ۴۳: آیات ۲۵ تا ۳۱ صفحه ۱۷۹ اور فصل ۴۴: آیات ۱ تا ۲ صفحہ ۱۸۰) میں لکھا ہے: فصل ۴۳ اس وقت یسوع نے کہا جب رسول اللہ آئے گا وہ کسی کی نسل سے ہوگا؟ شاگردوں نے جواب دیا داؤد کی نسل سے۔تب یسوع نے جواب دیا تم اپنے آپ کو دھو کے میں نہ ڈالو کیونکہ داؤد اس کا علم پا کر نبی موعود کو آقا اور خداوند کے نام سے پکارتا ہے۔اگر آنے والا داؤد کا بیٹا ہوتا تو وہ اسے اپنا خداوند نہ کہتا۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ عہد اسماعیل کے ساتھ کیا گیا تھا نہ کہ اسحق کے ساتھ۔فصل ۴۴ تب شاگردوں نے کہا اے استاد موسیٰ کی کتاب میں یونہی کہا