حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 175 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 175

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل السلام کی واضح ہدایات کے مطابق اسباط بنی اسرائیل تک ہی محدود رکھا۔بنو اسماعیل کی طرف نبوت کی منتقلی کا اعلان 175 عہد نامہ قدیم میں ایک عظیم الشان نبی کی آمد کی پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں جن کے لئے بنی اسرائیل منتظر تھے۔مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: خداوند خدا تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا۔تم اس کی سننا یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہوگا جو تو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سنی پڑے اور نہ ہی ایسی بڑی آگ کا نظارہ ہو۔تا کہ میں مر نہ جاؤں۔اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ جو کچھ کہتے ہیں سوٹھیک کہتے ہیں۔میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہ ہی ان سے کہے گا۔“ (استثنا باب ۱۸ آیت ۱۵ تا ۱۹) پیشنگوئیوں میں موسیٰ کی مانند ایک شرعی نبی کی آمد کی اطلاع ہے جو بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنو اسماعیل میں سے ہوگا۔چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارباص تھے اس لئے ان کے فرائض میں یہ چیز داخل تھی کہ میثاق مبین کے مطابق بنی اسرائیل میں اس نبوت کی منتقلی کا اعلان فرماتے۔چنانچہ آپ نے آنے والے کی عظمت اسطرح بیان فرمائی ہے کہ اس کا آنا گویا مالک کا آنا قرار دیا ہے اور اپنے آنے کو گو یا مالک کے بیٹے کا آنا قرار دیا ہے۔چنانچہ انگورستان کی تمثیل میں فرماتے ہیں: پس جب تاکستان کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا۔