حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 172
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - لوگ ملہم من اللہ ہونے کے دعویدار تھے علم نجوم میں دسترس رکھتے تھے اور زرتشتی مذہب 66 کے پیروکار تھے۔“ 172 بائیبل ڈکشنری از جان ڈی ڈیوس مطبوعہ 1973۔Royal Publishers Inc صفحه ۲۲۸) اسی طرح انجیل طفولیت مسیح کا ایک آرمینین نسخہ ملا ہے یہ انجیل نئے عہد نامہ کے اواخر میں شامل ہے اس میں لکھا ہے کہ یروشلم آنے والے مجوسی تعداد میں تین تھے یہ لوگ ہندوستان ایران اور عرب کے حکمران تھے چنانچہ آپ صلیب سے بیچ کر مشرق میں ظاہر ہوئے۔اپا کر فل نیوٹٹا منٹ از ایم آر جیمس صفحہ ۸۳) (Published by Oxford University Association - 1924) اور آپ کی تبلیغ ان ممالک میں کامیاب ہوئی۔انجیل مرقس کے نسخہ ایتھاس میں صاف لکھا ہے اور مشہور بائیبل سکالری آرگریگوری نے اپنی کتاب "The Canon and Text of the New Testament" میں جو کہ 1907ء میں شائع ہوئی نسخہ ایتھاس کا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے: "And here is the still stranger thing۔We have in manuscript a totally different ending, a manuscript I found at Mount Athos twenty years ago۔Continuous after the (greek word "gar") gap and all the thing announced to those about Peter briefly they spread abroad۔And after that Jesus also himself appeared from east and upto west۔He sent out by them sacred incorrupted preaching of the eternal salvation۔Amen۔" اور اس سے بھی عجیب تریہ کہ ہمیں انجیل مرقس کے ایسے نسخے بھی ملتے ہیں جن کے اختتام پر بالکل مختلف عبارت درج ہے۔ایک نسخہ مجھے آج سے بیس سال قبل ماؤنٹ ایتھاس سے ملا ہے جو گر یک لفظ gar) کے بعد یوں شروع ہوتا ہے: