حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 171
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل یہودی قوم کو ۷۲۰ ق۔م میں سارگون اور ۵۵۸ میں بنو کد نضر اسیر کر کے لے گیا تھا اس جلا وطنی کے زمانہ میں یہ قوم ماوی پارتھی اور فارس کے علاقہ میں جابسی تھی حضرت مسیح ناصری کی گمشدہ بھیڑ میں جن تک پیغام حق پہنچانا آپ نے اپنا مشن قرار دیا ہے ان کا زیادہ تر حصہ پار کھیتا کی سلطنت میں پایا جاتا تھا اور یہ سلطنت دریائے فرات سے لیکر دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی 171 بائیل ڈکشنری از جان ڈی ڈیوس مطبوعہ 1973۔Royal Publishers Inc زیر لفظ فرات) اور بنی اسرائیل کے گمشدہ فرقے بابل، ایران، افغانستان اور دوسرے مشرقی ممالک میں منتشر تھے۔جیسا کہ لکھا ہے: پس میں انہیں بابل کے پرے لے جاؤں گا۔“ (اعمال باب ۷ آیت ۴۳) انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے جب یہودیوں کے بد ارادوں کے پیش نظر اس خیال کا اظہار کیا کہ میں یہاں سے چلا جاؤں گا تو یہودیوں نے کہا کہ کیا آپ ان علاقوں میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں یہودی اسباط متنشر ہیں۔( یوحنا باب ۷ آیت ۳۳ تا Authorised Version۳۶) چنانچہ مشرقی ممالک کے یہودی اور مجوسی بھی آپ کیلئے چشم براہ تھے انجیل میں لکھا ہے کہ جب وہ عظیم الشان ستارہ مشرقی ممالک میں ظاہر ہوا جو کہ ولادت مسیح کا نشان تھا تو مشرق کے ماگی یعنی مجوسی کا ہن جو یہودیوں کے زیر اثر تھے کنعان میں اس تحقیق کے لئے آئے کہ مسیح کہاں پیدا ہوا ہے۔ان کی فراست نے مسیح کو پہچان لیا اور وہ زیارت کے بعد مشرق کولوٹ گئے۔(انجیل متی باب ۲) پس مشرق کے مجوسی وہ بزرگ تھے جو کہ خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے تھے اور وہ