حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 170 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 170

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 170 میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔( متی باب ۱۵ آیت ۲۲) کیونکہ ابن آدم کھوئے ہووں کو ڈھونڈ نے اور نجات دینے آیا ہے۔( متی باب ۱۸ آیت ۱۱)۔۔۔۔جب ایک کنعانی غیر اسرائیلی عورت نے مسیح علیہ السلام کو پکار پکار کر اپنی بیٹی کی شفایابی کیلئے درخواست کی اور بہت اصرار کیا تب بھی یہی کہا۔(دیکھیں متی باب ۱۵ آیت ۲۶) پہلے لڑکوں کو سیر ہو نے دو کیونکہ لڑکوں کی روٹی لیکر کتوں کو ڈال دینا اچھا نہیں۔( مرقس باب ۷ آیت ۲۷) اس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ لڑکوں یعنی بنی اسرائیل تک ہی اپنے مشن کو محدود سمجھتے تھے اور غیر اسرائیلیوں کو اپنے دائرہ تبلیغ اور روحانی شفایابی سے باہر خیال کرتے تھے اور بنی اسرائیل کو چھوڑ کر دوسروں کو فیض پہنچانا بنی اسرائیل کی حق تلفی سمجھتے تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا۔یہ اس لئے بھی فرمایا تاکہ ان کے متعلق بیان کردہ یسعیاہ باب ۵۶۔آیت ۸ والی پیشگوئی پوری ہو جائے جو یہ ہے: ” خداوند خدا جو اسرائیل کے تتر بتر کئے ہوؤں کو جمع کر نیوالا ہے۔یوں فرماتا ہے کہ میں ان کے سوا جو اُسی کے ہو کر جمع ہوئے ہیں اور وں کو بھی اس کے پاس جمع کروں گا۔چنانچہ بنی اسرائیل کے ۱۲ قبائل تھے ان میں سے صرف دو قبیلے یروشلم میں رہ گئے تھے اور دس قبائل جلاوطن ہو کر مشرقی ممالک میں بس گئے تھے اور دیگر اقوام کے ساتھ رہتے تھے جیسا کہ تاریخ کلیسیا مصنفہ پادری کین ڈبلیوبی ہیرلیس ( مطبوعہ کر چن نالج سوسائیٹی ) میں لکھا ہے: