حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 166
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل و لِكُلِّ قَوْمِ هَا دِه (سورة الرعد آیت (۸) ترجمہ: اور ہر ایک قوم کیلئے ( خدا کی طرف سے ) ایک راہنما ( بھیجا جا چکا ) ہے۔وَ إِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْنَا قَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيْسَى ابْن مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًاه ص 166 (سورة الاحزاب آیت (۸) ترجمہ: اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے نبیوں سے ان پر عائد کردہ ایک خاص بات کا وعدہ لیا تھا اور تجھ سے بھی ( وعدہ لیا تھا ) اور نوح اور براہیم اور موسیٰ اور عیسی ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سب سے ایک پختہ عہد لیا تھا۔وَمُصَدِ قَالِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ (سورة ال عمران: آیت ۵۱) ترجمہ: اور ( میں اس وحی کو) جو مجھے سے پہلے ( آچکی ) ہے۔یعنی تو رات اس کو پورا کرنے والا ( بن کر آیا ) ہوں۔۔۔۔وَاوَيْنَهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنِ (سورة المؤمنون: آیت ۵۱) ترجمہ: اور ہم نے ان دونوں کو ایک اونچی جگہ پر پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی۔وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ۔ترجمہ: حالانکہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ انہوں نے اسے صلیب پر لٹکا کر مارا بلکہ وہ ان کیلئے ( مصلوب کے ) مشابہ بنادیا گیا۔(سورة النساء : آیت ۱۵۸)