حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 163
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل نے پاس آکر اُسے جگایا اور کہا صاحب ہم ہلاک ہوئے جاتے ہیں۔“ اسی طرح لکھا ہے : 163 (لوقا باب ۸ آیت ۲۲ تا ۲۵) ”چنانچہ یسوع سفر سے تھکا ماندہ ہو کر اس کنویں پر یونہی بیٹھ گیا۔( یوحنا باب ۴ آیت ۶) مذکورہ بالا جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ کی صفات و علامات کا عشر عشیر بھی موجود نہیں تھا پس ابن اللہ جو بائیبل میں محاورہ نیک اور مقرب لوگوں کیلئے استعمال ہوا ہے استعارہ استعمال ہوا ہے اور چونکہ اس لفظ کی وجہ سے ٹھو کر گی لہذا قرآن کریم نے اس محاورہ کو ترک کر دیا اور اس کی جگہ پر اس سے بہتر لفظ عبد کا استعمال کیا۔قرآن کریم نے فرمایا ہے : لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُوْنَ عَبْدًا لِلَّهِ۔(سورة النساء : آیت ۱۷۳) ترجمہ مسیح اس بات کو ہرگز نا پسند نہیں کرے گا کہ اسے اللہ تعالیٰ کا ایک مخلص بندہ قرار دیا جائے۔اور سچ ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنے آپ کو ابن آدم ہی کہا ہے جیسا کہ یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۵ تا ۳۹ سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہوتی ہے۔پس آپ کے متعلق ابن اللہ کا لفظ استعارۃ وارد ہوا ہے جسے حقیقت پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔