حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 162
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل الْقَادِ رُ: وہ اپنے آپ سے جو چاہے کر سکتا ہے۔لیکن مسیح علیہ السلام نے کہا: میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں۔“ ” جو میں نے سنا وہی دنیا کو کہتا ہوں۔“ اپنے معجزہ کے متعلق کہا: 162 ( یوحنا باب ۵ آیت ۳۰) ( یوحنا باب ۸ آیت ۲۸) یسوع نے اسے جھڑ کا اور بد روح اس میں سے نکل گئی۔شاگردوں نے خلوت میں پوچھا ہم اسے کیوں نہ نکال سکے آپ نے فرمایا ایمان کی کمی کے سبب سے۔لیکن یہ قسم دعا کے سوا اور کسی طرح نہیں نکل سکتی۔“ (متی باب ۱۷ آیت ۱۸ تا ۲۱)۔۔۔۔۔الْمَلِكُ: وہ دونوں جہانوں کا بادشاہ ہے۔لیکن مسیح علیہ السلام نے فرمایا: ” میری بادشاہی اس دنیا کی نہیں اگر میری بادشاہی اس دنیا کی ہوتی تو میرے خادم لڑتے تاکہ میں یہودیوں کے حوالے نہ کیا جاتا مگراب میری بادشاہی یہاں کی نہیں۔“۔۔۔۔لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ط ( یوحنا باب ۱۸ آیت ۳۷-۳۶) وہ نیند اور اونگھ کی غفلتوں سے بری ہے۔انجیل میں لکھا ہے: ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اور اس کے شاگرد کشتی میں سوار ہوئے اور اس نے ان سے کہا آؤ جھیل کے پار چلیں۔پس وہ روانہ ہوئے مگر جب کشتی چلتی جاتی تھی تو وہ سو گیا اور جھیل پر بڑی آندھی آئی اور کشتی پانی سے بھری جاتی تھی۔اور وہ خطرہ میں تھے انہوں