حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 158 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 158

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔خدائی مجھ میں آگئی ہے۔یا میں بھی ایک خدا ہوں۔بلکہ جس طرح بائیبل میں دوسرے لوگوں کے متعلق آتا ہے کہ وہ خدا ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خدا نہیں بن گئے بلکہ یہ ایک استعارہ تھا جو استعمال ہوا اسطرح جب میں اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہتا ہوں تو یہ بھی ایک استعارہ ہوتا ہے یہ مراد نہیں ہوتی کہ میں واقعہ میں خدا بن گیا ہوں۔66 ( تفسیر کبیر سوره مریم از حضرت خلیفہ امسح الثاني لمصلح موعود ایڈیشن اول صفحہ ۲۶ تا ۲۸ مطبوعہ دار امام ربوہ پاکستان ) 158 لمصنفين حقیقت اور استعارہ کو معلوم کرنیکا ایک اور طریق بھی ہے مثلا شیر کا بچہ شیر ہوتا ہے اور کسی بہادر انسان کو بھی شیر کہہ دیتے ہیں۔اب ایک چھوٹے بچے کو کیسے معلوم ہو کہ ان دونوں شیروں میں کیا فرق ہے۔چڑیا گھر میں جا کر وہ جنگل کے بادشاہ کو کیسے پہچانے۔پس اسے بتانا پڑے گا کہ در حقیقت شیر کی ایسی ایسی دم ہوتی ہے۔پنجے ہوتے ہیں گردن اور پھر اس پر ایسے ایسے بال ہوتے ہیں وہ دھاڑتا ہے وغیرہ وغیرہ یعنی شیروں والی علامات بچے کو سمجھائی جائیں گی تو فوراً بچہ چڑیا گھر میں جاکر شیر کو پہچان لے گا۔اس طرح ابن اللہ کے معنی اگر خدا کے ہیں تو اسمیں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات و علامات ہونی چاہئیں ورنہ ابن کا استعمال استعارہ پر محمول ہو گا اب دیکھتے ہیں کہ کیا مسیح علیہ السلام میں بھی وہ علامات اور صفات موجود تھیں جو خدا کے بیٹے میں عقل ہونی چاہئیں؟ مثال کے طور پر چند صفات و علامات کو نمونے کے طور پر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمَ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ، لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ۔يَعْلَمُ مَابَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِةٍ إِلَّا ط