حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 156 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 156

156 حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - کسی کام کے سبب سے مجھے سنگسار کرتے ہو ( یعنی مسیح علیہ السلام نے ان سے کہا کہ میں لوگوں کو نیکی کی تعلیم دیتا ہوں کیا تم اس وجہ سے مجھے سنگسار کرتے ہو۔میں لوگوں کو حلم اور عفو کی تعلیم دیتا ہوں کیا تم اس وجہ سے مجھے سنگسار کرتے ہو۔میں لوگوں کو محبت الہی اور خدا ترسی کی تعلیم دیتا ہوں کیا تم اس وجہ سے مجھے سنگسار کرتے ہو۔میں بنی نوع انسان کی خدمت کرتا ہوں اور دوسروں کو بھی خدمت کرنے کی تعلیم دیتا ہوں۔کیا تم مجھے اس وجہ سے سنگسار کرتے ہوں جو کام خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کئے ہیں ان میں سے بہترے کام میں نے کئے ہیں تم مجھے یہ بتاؤ کہ میرا کونسا جرم ہے جس کی وجہ سے تم مجھے سنگسار کرنا چاہتے ہو؟ ) یہودیوں نے اسے جواب دیا اچھے کاموں کے سبب سے نہیں بلکہ کفر کے سبب سے تجھے سنگسار کرتے ہیں۔(یعنی خدمت خلق۔غریبوں سے اچھا سلوک اورحلم اور عفو کی تعلیم اور رحم دلی وغیرہ وہ چیزیں نہیں جنکی وجہ سے ہم تجھے سنگسار کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہمارے سنگسار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تم نے اپنی زبان سے کفر کا کلمہ نکالا ہے اور اس لئے کہ تو آدمی ہو کر اپنے کو خدا بناتا ہے۔یعنی تو نے انسان ہو کر دعویٰ کیا ہے کہ میں خدا ہوں اس لئے ہم تجھے سنگسار کریں گے ) یسوع نے انہیں جواب دیا کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو ( یعنی بائیل میں کیا یہ بات درج نہیں کہ خدا نے اپنے بندوں کو خدا کہا ہے؟ جبکہ اس نے انہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کلام آیا اور کتاب مقدس کا باطل ہونا ممکن نہیں ( زبور ۸۲) آیا تم اس شخص سے جسے باپ نے مقدس کر کے دنیا میں بھیجا۔کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے اس لئے کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں حضرت مسیح کہتے ہیں تمہارے لئے بائیبل میں خدا کا لفظ بولا گیا ہے مگر تم خدا نہیں ہو گئے۔نہ تم اس وجہ سے کافر بن گئے مگر میرے لئے صرف بیٹے کا لفظ