حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 149
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل صَاحِبَةٌ ، وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ هِ 149 (سورة الانعام آیت ۱۰۱ تا ۱۰۲) ترجمہ: اور انہوں نے بغیر کسی علم قطعی کے اس کے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لئے ہیں حالانکہ وہ پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے پھرتے ہیں اور وہ زمین اور آسمان کو ابتد ا پیدا کرنے والا ہے اس کیلئے بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس کی بیوی نہیں ہے۔اور اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔قرآن کریم نے ابن اللہ کا کوئی تصور پیش نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کیلئے عبد کا لفظ استعمال کرنا پسند کیا ہے جیسا کہ فرمایا: ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا۔(سورة مريم: آیت ۳) ترجمہ: یہ تیرے رب کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس کے بندے ذکر یا پرتھی۔وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَنَهُ ، بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ۔(سورة الانبياء آیت ۲۷) ترجمہ: اور کہ دیا انہوں نے کہ خدائے رحمن نے اپنے لئے بیٹا بنالیا ہے۔پاک ہے وہ۔جن کو وہ بیٹے کہتے ہیں وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِيْنَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهلُوْنَ قَالُوْا سَلَمًا۔(سورة الفرقان آیت (۶۴) ترجمہ: اور اس خدائے رحمان کے مخلص بندے وہ ہیں جو زمین میں نرمی اور آہستگی سے چلتے ہیں۔اور جب جاہل لوگ ان سے خطاب کرتے ہیں تو یہ ان کو سلام دیتے ہیں۔