حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 134 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 134

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل پھر لکھا ہے: 134 وہ جنگلوں میں الگ جا کر دعا کیا کرتا تھا۔“ (لوقا باب ۵ آیت ۱۶) اسی طرح آپ اپنے مال میں سے خدا کا حصہ نکالنے کے حکم کو انجیل میں تسلیم کرتے ہیں جیسے کہ کہا: پس جو چیزیں قیصر کی ہیں قیصر کو دو اور جو خدا کی ہیں خدا کو دو۔“ ( متی باب ۲۲ آیت ۲۱) مسیح علیہ السلام کے لنگر سے بہت سے لوگوں کے وقتا فوقتنا کھانا کھلائے جانے کا ذکر بھی انجیل میں ملتا ہے ( مثلامتی باب ۱۵ آیت ۳۲ تا۳۹ میں ) پس یہ وہی زکوۃ کے حکم کی تعمیل ہی تو تھی کہ آپ آسودہ لوگوں سے لیکر غریبوں کو آسمان کی بادشاہت کی منادی بھی سناتے تھے اور اس روحانی ضیافت کے ساتھ ساتھ ظاہری ضیافت کا اہتمام بھی فرماتے تھے۔قرآن کریم فرماتا ہے : وَمُصَدِ قَالِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَةِ وَلَا حِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ مَن فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوْنَo قف اِنَّ اللهَ رَبّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ، هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ط (سورة آل عمران: آیات ۵۲۔۵۱) ترجمہ: تصدیق کرتا ہوں جو تمہارے پاس ہے اس کی ( یعنی تو رات ) اور اس لئے آیا ہوں کہ بعض ایسی چیزیں جو تمہارے لئے حرام قرار دی گئی تھیں (اور تم سے روک دی گئی تھیں) تمہارے لئے حلال کر دوں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نشان لیکر آیا ہوں اس لئے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔یقینا اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔پس اس کی ہی (اللہ ) کی عبادت کرو۔یہی سیدھا راستہ ہے۔ان آیات میں فرمایا یعنی تمہاری شرارتوں کی وجہ سے جو وحی الہی کا سلسلہ بند کر دیا گیا تھا