حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 120
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل مِّنْهُمْ فَسِقُوْنَ 120 (سورة الحديد: آیات ۲۸۔۲) ترجمہ: اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھی رسول بنا کر بھیجا تھا۔اور کی ذریت سے نبوت اور کتاب کو مخصوص کر دیا تھا۔پس بعض ان میں سے ہدایت پانے والے تھے اور بہت لوگ ان میں سے فاسق تھے۔پھر ہم نے ان کے یعنی (اولادنوح و ابرا ہیم کے ) بعد اپنے رسول ان کے نقش قدم پر چلا کر بھیجے۔اور عیسی ابن مریم کو بھی ان کے نقش قدم پر چلایا اور اس کو انجیل بخشی۔اور جو اس کے متبع ہوئے ہم نے ان کے دل میں رافت اور رحمت پیدا کی اور انہوں نے کنوارا رہنے کا طریق اختیار کیا، جسے انہوں نے خود اختیار کیا تھا۔ہم نے یہ حکم ان پر فرض نہیں کیا تھا ( گو ) انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے یہ طریق اختیار کیا تھا۔مگر اس کا پورا لحاظ نہ رکھا۔پس ان میں سے جو مومن تھے ان کو ہم نے مناسب حال اجر بخشا اور ان میں سے بہت سے فاسق تھے۔ان آیات کریمہ کی روشنی میں مندرجہ ذیل حقائق کا علم ہوتا ہے: آپ روحانی لحاظ سے مسیح تھے اور نام آپ کا عیسی ابن مریم تھا آپ اللہ کے رسول اور بنی اسرائیل کی طرف مامور تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دیگر انبیاء کے ساتھ بھی فرمایا ہے اور نبوت میں اور پیدائش میں مثیل آدم قرار دیا ہے۔نیز آپ نے دیگر انبیاء کی طرح تو ریت سے نور اور ہدایت حاصل کی جو انبیاء اس کے ذریعہ فیصلے کرتے تھے انہی کے نقش قدم پر چلنے والے آپ بھی تھے۔آپ کے حواریوں کو بھی جو سعید روح رکھتے تھے الہام بتایا گیا تھا کہ آپ من جانب اللہ نبی اور رسول ہیں۔اور یہی بات آپ بھی لوگوں کے سامنے پیش فرماتے تھے۔انا جیل میں بھی لوقا باب ۴ آیت ۱۷۸ میں آپ نے دعویٰ مسیحیت فرمایا اور منتی باب