حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 117
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل ترجمہ: (یاد رکھو) عیسی کا حال اللہ کے نزدیک یقیناً آدم کے حال کی طرح ہے۔اسے ( یعنی آدم کو ) اس نے خشک مٹی سے پیدا کیا۔پھر اس کے متعلق کہا کہ تو وجود میں آجا تو وہ وجود میں آنے لگا۔ا وَإِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يُبَنِي إِسْرَاءِ يْلَ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُّصَدِ قَالِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَةِ وَمُبَشِّرًا ، بِرَسُوْلِ يَأْتِي مِنْ۔بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ ، فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوْا هَذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌه 117 م (سورة الصف: آیت) ترجمہ: اور (یاد کرو) جب عیسی ابن مریم نے اپنی قوم سے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کی طرف سے تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہوں ، جو کلام میرے آنے سے پہلے نازل ہو چکا ہے یعنی تو رات اس کی پیشگوئیوں کو میں پورا کرتا ہوں اور ایک ایسے رسول کی بھی خبر دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہوگا۔پھر جب وہ رسول دلائل لے کر آ گیا، تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا کھلا فریب ہے۔لا وَرَسُوْلًا إِلَى بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْراً بِإِذْنِ اللَّهِ وَأَبْرِيُّ الْأَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَأَحْيِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِي بُيُؤْتِكُمْ ، إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ۔(سورة آل عمران: آیات ۵۰) ترجمہ: اور بنی اسرائیل کی طرف رسول ( بنا کر اسے پیغام کے ساتھ بھیجے گا ) کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نشان لے کر آیا ہوں (اور وہ یہ ہے ) کہ میں تمہارے (فائدہ) کیلئے بعض طینی خصلت رکھنے والوں سے پرندہ (کے پیدا