حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 115 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 115

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل سے ہوگا۔* يَأَهْلَ الْكِتَبِ لَا تَغْلُوْا فِي دِيْنِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ، إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِنْهُ ، فَامِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ ع وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَثَةٌ إِنْتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ، إِنَّمَا اللهُ إِلهُ وَاحِدٌ ، سُبْحَنَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ، وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيْلاً ه 115 (سورة نساء : آیت ۱۷۲) ترجمہ: اے اہل کتاب ! تم اپنے دین کے ( معاملہ ) میں غلو سے کام نہ لو اور اللہ کے متعلق سچی بات کے سوا ( کچھ نہ کہا کرو۔مسیح عیسی ابن مریم اللہ کا صرف (ایک) رسول اور اس کی (ایک) بشارت تھا جو اس نے مریم پر نازل کی تھی اور اس کی طرف سے ایک رحمت تھا۔اس لئے تم اللہ ( پر ) اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لاؤ اور یوں نہ کہو کہ (خدا) تین ہیں۔( اس امر سے) باز آ جاؤ (یہ) تمہارے لئے بہتر ہوگا۔اللہ ہی اکیلا معبود ہے اور وہ (اس بات سے ) پاک ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور اللہ کی حفاظت کے بعد اور کسی حفاظت کی ضرورت نہیں۔قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللهِ اثْنِيَ الْكِتَبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيَّاه ط قف (سورة مريم: آیت (۳۱) ترجمہ: ( یہ سن کر ابن مریم نے ) کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس نے مجھے کتاب بخشی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ