حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 114 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 114

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل۔۔۔۔۔و پطرس یعقوب اور یوحنا کے سامنے پہاڑ پر ان کے سامنے اس کی صورت بدل گئی اور اس کی پوشاک ایسی نورانی اور نہایت سفید ہوگئی اور ایلیا اور موسیٰ کے ساتھ ان کو دکھائی دیا اور وہ یسوع سے باتیں کرتے تھے۔“ 114 (لوقا باب ۹ آیات ۲۸ تا ۳۰ مرقس باب ۹ آیات ۷ تا ۸ ) کشفی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے آپ کو حضرت ایلیا اور حضرت موسیٰ" کے ساتھ دیکھا اور وہ دونوں نبی تھے اور آپ بھی سلسلہ موسوی کے آخری نبی تھے اور نبوت میں اُن کے مشابہہ تھے۔نیز فرمایا: میں آپ سے نہیں آیا بلکہ اس نے مجھے بھیجا۔‘ ( یوحنا باب ۹ آیات ۴۳) اناجیل اربعہ کے مندرجہ بالا اقتباسات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا اصل دعویٰ مسیحیت کا تھا اور اسی وجہ سے آپ نبی اور رسول بھی تھے اور آپ نے اپنے آپ کو جا بجا ابن آدم کے نام سے یاد بھی کیا ہے۔آپ اپنے آپ کو مامور من اللہ اور یک از ذریت آدم ہی سمجھتے تھے۔قرآن کریم میں آپ کے دعویٰ مسیحیت و نبوت کا ذکر فرمایا: إِذْ قَالَتِ الْمَلَئِكَةُ يَمَرْيَمُ إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكَ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ و سَى اسْمُهُ ق الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (سورة آل عمران : آیت (۴۶) ترجمہ: ( پھر اس وقت کو یاد کر ) جب فرشتوں نے کہا تھا کہ اے مریم ! اللہ تجھے اپنے کلام کے ذریعہ سے (ایک لڑکے کی ) بشارت دیتا ہے۔اُس (مبشر ) کا نام مسیح ابن مریم ہوگا۔جو ( اس ) دنیا اور آخرت میں صاحب منزلت ہوگا اور خدا کے مقربوں میں