حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 107 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 107

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل بپتسمہ کیوں دیتا ہے۔107 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود، ایلیا ، مسیح اور وہ نبی تین وجودوں کے انتظار میں تھے۔تفصیل کیلئے دیکھیں (۱) پیدائش باب ۴۹ آیت ۹-۱۰ (۲) زبور باب ۱۱۸ آیت ۲۵-۲۶ (۳) دانی ایل باب ۷ آیت ۱۳ ۱۴ (۴) دانی ایل باب ۱۲ آیت ۵ تا ۱۳ (۵) یسعیاہ باب ۶۱ آیت ۱ تا ۳ (۶) ملاقی باب ۴ آیت ۵ وغیرہ۔جن تین وجودوں کے وہ منتظر تھے ان کو وہ نبی ہی سمجھتے اور یقین کرتے تھے وہ کسی خدا یا خدا کے اکلوتے بیٹے کی آمد اور ظہور کے قائل تھے نہ منتظر تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے معاقبل آنے والے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ایلیاء قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا: سب نبیوں اور تورات نے یوحنا تک نبوت کی اور چاہو تو مانو کہ ایلیاء جو آنے والا تھا یہی ہے جس کے سننے کے کان ہوں سن لے۔“ متی باب ۱۱ آیات ۱۳ تا ۴۷ ) ، ( مرقس باب ۹ آیات ۱۱ تا۱۳)، (لوقا باب ایک آیات اتا۱۷) اور حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ السلام کا ارہاص اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح قرار دیا ہے جیسا کہ لکھا ہے: انہوں نے یعنی یوحنا کے شاگردوں نے ) یوحنا کے پاس آکر کہا اے ربی ! جو شخص بر دن کے پار تیرے ساتھ تھا۔جس کی تو نے گواہی دی تھی دیکھ وہ بپتسمہ دیتا ہے اور سب اس کے پاس آتے ہیں یوحنا نے جواب میں کہا انسان کچھ نہیں پاسکتا جب تک اس کو آسمان سے نہ دیا جائے۔تم خود میرے گواہ ہو کہ میں نے کہا۔میں مسیح نہیں مگر اس کے آگے بھیجا گیا ہوں جس کی دلہن ہے وہ دولہا ہے۔مگر دولہا کا دوست جو کھڑا ہے اور اس کی سنتا ہے۔دولہا کی آواز سے خوش ہوتا ہے پس میری یہ خوشی پوری ہوگئی ضرور ہے کہ وہ بڑھے اور میں گھٹوں ( یوحنا باب ۳ آیت ۲۶ تا ۲۹) جیسا کہ لکھا ہے ( ناصرہ کے عبادت خانہ