حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 106
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل باب چهارم حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی نبوت 106 آج سے تقریباً ۲ ہزار سال قبل سرزمین فلسطین ظلم و جور کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں ایک لمبے عرصہ تک سلسلہ نبوت جاری رہا تھا اور وہ اب وَإِذا بُتَلَى إِبْراهِمَ رَبُّهُ بِكَلِمَت فَأَتَمَّهُنَّ ، قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ، قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ، قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّلِمِيْنَ (سورة البقره آیت ۱۲۵) کی مصداق بن چکی تھی۔اللہ تعالیٰ نے انہیں متنبہ کرنے کیلئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان سے قبل حضرت یحییٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔اس وقت یہود عہد نامہ قدیم کی پیشگوئیوں کے مطابق تین وجودوں کے منتظر تھے جیسا کہ یوحنا باب اوّل آیت ۱۹ تا ۲۵ میں لکھا ہے : یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاھن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے؟ تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا اور اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے؟ کیا تو ایلیا ہے؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں کیا تو وہ نبی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔پس انہوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون؟ انہوں نے اس سے کہا کہ نہ تو مسیح ہے نہ ایلیاء ہے نہ وہ نبی تو پھر