حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 105
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 105 تیرے فضل پر بھروسہ کیا تھا اور کون ہے جس نے تیرے فضل پر بھروسہ کیا ہوا اور نقصان اٹھایا ہو یا بے نصیب رہا ہو۔پھر آپ نے اپنے عظیم مشن کے متعلق جو آپ کے سپر د کیا گیا تھا یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشخبری دینا۔اس کے متعلق ”مہر“ کا لفظ استعمال کر کے کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس خوشخبری کو خوب اچھی طرح جان لیا ہے اور تیری مخلوقات نے اس کے متعلق تعارف حاصل کر لیا ہے۔اب میرا کام ختم ہو گیا ہے۔مجھ پر اپنے انعامات فرما اور میرے لئے روحانی دودھ اور شہد کے دھارے بہا اور وہ وقت قریب لا جب تیر ا عظیم وعدہ پورا ہو۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مناجات اور دلپذیر اشعار مکہ معظمہ میں کہے گئے اور اس وقت کہے گئے ہیں جب آپ مشرق میں بذات خود اور مغرب میں حواریوں کے ذریعہ سے انجیل کی خوب اچھی طرح منادی کر چکے تھے۔اور اپنا کام ختم سمجھتے تھے چنانچہ آخری عمر میں خانہ کعبہ میں خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوکر آپ نے نذرانہ عقیدت پیش فرمایا ہے اور اس موقعہ پر آپ نے حج بھی کیا ہے جو کشف میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا بھی گیا تھا۔