حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 104
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 104 کرتے تھے۔زیادہ تر ان نظموں میں حضرت مسیح دنیا سے مخاطب ہیں۔نظم چہارم میں اللہ تعالیٰ کے ایک ایسے گھر کا ذکر ہے جو اولُ بيتٍ وُضِعَ لِلنَّاس کا مصداق ہے۔لکھا ہے: کوئی انسان اے میرے خدا تیری مقدس جگہ کو تبدیل نہیں کرتا اور ممکن بھی نہیں کہ وہ اسے بدل سکے اور اُسے کسی دوسری جگہ لے جائے کیونکہ ایسا کرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں۔کیونکہ تیرا گھر تو وہ ہے جسے تو نے اس وقت تشکیل دیا جبکہ دوسرے مقامات معرض وجود میں بھی نہیں آئے تھے۔جو بڑا ہے اس کی جگہ وہ مقامات نہیں لے سکتے جو کہ ابتدا سے اس سے چھوٹے ہیں۔تو نے اپنی دلی محبت ان لوگوں پر نچھاور کردی جو کہ دولت ایمانی سے مالا مال ہیں۔تیرے کام کبھی نا کام نہیں ہوتے اور نہ تیرے محل بے شمر۔کیونکہ مجھ پر ایمان کی ایک گھڑی بہت زیادہ قیمتی ہے۔بس کون ہے؟ جس نے تیرے فضل پر بھروسہ کیا اور اس نے نقصان اٹھایا۔تیری مہر کو جان لیا گیا۔تیری مخلوقات اسے پہچان گئی ہے اور تیری آسمانی افواج اسے اپنے قبضہ میں لئے ہوئے ہیں۔۔۔۔قطرات شبنم ہم پر گرا اور اپنے ان عظیم چشموں کے در کھول دے جو کہ ہم پر دودھ اور شہد کے دھارے بہادیں جس چیز کا بھی تو نے وعدہ کیا اس کے پورا کرنے میں بھلا تجھے کیا پچھتاوا ہوسکتا ہے؟ اور انجام تیرے سامنے منکشف ہے کیونکہ جب تو دینے پر آتا ہے تو بے بہا دیتا ہے 66 (The Lost Books of the Bible - Ode No IV Odes of Solomon) ان مناجات میں حضرت مسیح علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے مرتبہ اور فضیلت کا ذکر کیا ہے اور یروشلم اور دیگر مقامات کو اس سے کم تر گردانا ہے اور یہ اشارہ کیا ہے کہ تیرے ہاتھ کے لگائے ہوئے بخل کبھی بے ثمر نہیں ہوتے۔تو نے ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے یہ گھر بنایا تھا اور اس کی اولاد سے وعدے کئے تھے وہ وعدے پورے ہوں گے اور ابراہیم علیہ السلام نے