حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 100 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 100

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل حضرت مسیح علیہ السلام خانہ کعبہ میں 100 انا جیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو تمیں سال کی عمر میں نبوت ملی۔چند سال آپ نے تبلیغ کی اور پھر آپ کو واقعہ صلیب سے دو چار ہونا پڑا اور صلیب کے بعد آپ مشرقی ممالک کی طرف ہجرت کر گئے اور مشرق میں انجیل کی منادی کرتے رہے جیسا کہ انجیل مرقس کے نسخہ ایتھا اس میں لکھا ہے: اور یسوع بنفس نفیس مشرق میں ظاہر ہوا“ (ڈکشنری آف کرائسٹ اینڈ دی گاسپل از بیسٹنگر زیر لفظ مارک ۱۳۱ مطبوعہ میک ملن کمپنی 1953ء) گو یہ بات کہ آپ کو ۳۳ سال میں واقعہ صلیب سے دو چار ہونا پڑا انجیل کے دو حوالوں سے مشکوک ہو جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ۴۵ یا ۴۶ سال کی عمر میں یہ واقعہ صلیب پیش آیا تھا اور پھر آپ نے ہجرت کی تھی اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آناً فانا واقعہ صلیب واقع نہیں ہو گیا تھا بلکہ آپ کے متعلق حکومتی عدالت میں اور مذہبی عدالت میں مقدمات چلتے رہے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کو نبوت چالیس سال کی عمر میں ہی ملی ہو جیسا کہ سنت اللہ ہے۔اور پھر چند سال کے بعد مقدمات کا سلسلہ چل پڑا اور واقعہ صلیب کے بعد بیچ نکلنے کے بعد آپ مشرقی ممالک یعنی کشمیر میں ہجرت کر گئے۔دیکھیں کتاب " مسیح ہندوستان میں از حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد علیہ السلام - روحانی خزائن ایڈیشن اوّل مطبوعه الشرکۃ الاسلامیه، ربوہ پاکستان) یوحنا باب ۲ آیت ۱۸ تا ۲۲ میں لکھا ہے: ” پس یہودیوں نے اس سے کہا تو جوان کا موں کو کرتا ہے ہمیں کون سا نشان دکھاتا ہے؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا اس مقدس کو ڈھا دو تو میں اسے تین دن میں کھڑا کر دوں گا۔یہودیوں نے کہا چھیالیس برس میں یہ مقدس بنا ہے اور کیا تو اسے تین