حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 58 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 58

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔58 ان حالات کا تفصیلی بیان اس لئے بھی ضروری تھا کہ یہ بتایا جائے کہ یہ رائج الوقت خیال کہ آپ کی پیدائش دردزہ کے بغیر ہوئی اور بچہ جو پیدائش کے وقت چیختا ہے تو وہ مسن شیطان کی وجہ سے چیختا ہے۔لیکن یہ کہ آپ چینے چلائے نہیں اور آپ اس وجہ سے مس شیطان سے محفوظ رہے۔اور آپ کا مسن شیطان سے محفوظ رہنا آپ کی الوہیت کی دلیل ہے۔یہ وہ غلط خیال اور موہوم استدلال تھے جس کا زد اس جگہ قرآنی بیان سے ہو جاتا ہے۔ظاہر بات ہے کہ جب حضرت مریم علیہ السلام کو اتنی تکلیف ہوئی تو حضرت مسیح علیہ السلام کو تو بدرجہ اولی بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہوگا اور آپ بہت چیخے چلائے ہوں گے اس سے ظاہر یہ کرنا مقصود ہے۔اے عیسائیو! تم اس کو خدایا خدا کا بیٹا بناتے ہو جس کی پیدائش ایک عام پیدائش تھی اور بعض لحاظ سے یہ پیدائش حضرت مریم کے لئے زیادہ تکلیف کا باعث بنی تھی۔کیا ایک عورت کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ خدا یا خدا کا بیٹا ہو سکتا ہے ! ہاں وہ بچہ اس عورت کا بیٹا ہی کہلائے گا یعنی ابن مریم یہ اور بات ہے کہ ہم اسے اپنے مقربین میں جگہ دے کر نبوت سے سرفراز کر دیں۔دوران حمل اور بعد پیدائش سفر اور واقعات اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَاذْكُرْ فِي الْكِتَبِ مَرْيَمَ ، إِذا نُتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا ص قف وقف لازم شَرْقِيَّاهِ فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا سفت (سورة مريم : آیت ۷ ۱ تا ۱۸) ترجمہ: اور اس کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے جدا ہوکر جانب مشرق ایک جگہ چلی گئی۔پس اس نے اپنے اور ان کے درمیان ایک حجاب حائل کرلیا۔پس اس روحانی مجاہدہ کے دوران آپ کو فرشتہ کے ذریعہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بن