حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 53
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 53 فَنَادَهَا مِنْ تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِى قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيَّاه وَهُزَى إِلَيْكِ بجذع النَّخْلَةِ تُسْقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيَّاهِ فَكُلِيْ وَاشْرَبِي وَقَرَيْ عَيْنًا فَإِمَّا تَرَينَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُوْلِيْ إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَن أُكَلَّمَ الْيَوْمَ إِنْسِيَّاه فَأَتَتْ بهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ ، قَالُوْا يَمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيَّاه (سورة مريم: آیت ۲۳ تا ۲۸ ترجمہ: اس پر مریم نے (اپنے پیٹ میں ) اس بچہ کو اٹھا لیا اور پھر اس کو لے کر ایک دور کے مکان کی طرف چلی گئی۔پس ( جب مریم کو یقین ہو گیا کہ اس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے تو اسنے دنیا کی انگشت نمائی کا خیال کر کے ) کہا اے کاش ! میں اس سے پہلے مرجاتی اور میری یاد بھی مٹادی جاتی۔( پس فرشتہ نے ) اس کو نچلی جانب کی طرف سے پکار کر کہا کہ اے عورت ) غم نہ کر اللہ نے تیری نچلی جانب ایک چشمہ بہایا ہوا ہے (اس کے پاس جا اور اپنی اور بچہ کی صفائی کر ) اور ( وہ ) کھجور ( جو تیرے پاس ہوگی ) اس کی ٹہنی کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا وہ تجھ پر تازہ پھل پھینکے گی۔پس ان کو کھاؤ اور چشمہ سے پانی بھی پیو( اور خود نہا کر اور بچہ کونہلا کر ) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر ( اس عرصہ ) میں تو کسی مرد کو دیکھے تو کہہ دے کہ میں نے رحمن (خدا) کیلئے (ایک) روزہ کی نذر کی ہوئی ہے پس میں آج کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔اس کے بعد وہ اس کو لیکر اپنی قوم کے پاس سوار کرا کے لائی جنہوں نے کہا اے