حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 258 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 258

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل پورا نہ ہو جائے۔(متی باب ۵ آیت ۷ تا ۱۹) 258 حضرت مسیح علیہ السلام شریعت موسوی کے تابع نبی تھے لیکن آپ کی شخصیت کو بعد میں آنے والوں نے اپنے خیالات کی بھینٹ چڑھا دیا جیسا کہ نیو اامریکن لائبریری سے چھپنے والی The Uses of the Past by Robert Miller - New American Library Press میں تسلیم کیا گیا۔دوسرا بڑا دعویٰ جس کا دعویدار آپ کو قرار دیا جاتا ہے آپ کا دعوی الوہیت ہے۔یہ وہ دعویٰ ہے جس کی وجہ سے عیسائیت میں شرک کا دروازہ کھلا اور مادہ پرستی ہونے لگی اور یہ بھی انجیل کے ایک محاورہ کو غلط معنی پہنانے سے ہوا۔عہد نامہ قدیم وجدید میں ابن“ کا لفظ کسی شدید تعلق کے اظہار کیلئے بیان ہوا ہے۔جیسا کہ آپ نے یوحناء اباب ۳۱ تا ۳۴ میں واضح فرمایا ہے۔آپ کو استعارة ابن اللہ کہا گیا۔قرب خداوندی جو آپ کو حاصل تھا اس کو بیان کرنے کیلئے ورنہ آپ میں کوئی خدائی صفات نہ تھیں کہ آپ کو اس وجہ سے خدایا اس کا اقنوم سمجھا جائے۔آپ ایک اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے جن کے سپرد یہ کام تھا کہ توریت کی تعلیم کی حکمتوں کو کھول کر بیان کریں اور آپ کا مشن عالمگیر بھی نہ تھا بلکہ بنی اسرائیل تک محدود تھا جیسا کہ قرآن کریم نے بھی آپ کو رسولاً إِلى نَبِي إِسْرَائِیل کہا اور انجیل میں بھی یہی آیا ہے کہ: میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔(متی ۱۵ آیت ۲۲) ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ملے گا۔جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔(متی ۵ آیت ۱۹) یعنی جب تو رات کی بیان کردہ عظیم الشان پیشگوئی نبی آخر الزمان کی آمد کے متعلق پوری ہوگی تو پھر تورات منسوخ ہوگی۔گویا آپ نے اپنا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک