حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 256 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 256

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 256 ہیں بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ہیں اور اس سے مراد موعود نبی ہے جو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد آنے والا تھا۔نبی موعود کے متعلق یہودیوں کے صحف مقدسہ اور احادیث میں لکھا ہے کہ وہ آخر میں آئے گا مگر اس کا نام سب سے پہلے رکھا گیا اس حقیقت کی طرف مسیح علیہ السلام نے بھی توجہ دلائی ہے کہ: وہ جو میرے بعد آتا ہے مجھ سے مقدم ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا صاف ظاہر ہے کہ افضل الانبیاء حضرت مسیح نہیں تھے بلکہ ان کے بعد آنے والا تھا۔“ ( یوحنا باب ۱ آیت ۱۵) پس ان حقائق سے یہ معلوم ہوا کہ یوحنا کی ابتدائی آیات تحریف کا شکار ہیں جس کی بنیاد پر الوہیت مسیح کی عمارت کھڑی کرنا دانشمندی نہیں۔دوئم، تراجم در تراجم ہونے کی وجہ سے بھی غلط مفہوم لیا گیاور نہ ابتدائی حواری اس مفہوم کے قائل نہ تھے اور یہ بھی ہے کہ الوہیت مسیح کے عقیدہ کو ایجاد کرنے کیلئے بھی یوحنا کی ابتدائی آیات میں تصرف کیا گیا ہے جو قدیم نسخوں کے انکشافات سے کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ان آیات کا صحیح مفہوم اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا کہ ابتداء میں خدا کی دیگر صفات کی طرح کلام کرنے کی صفت بھی تھی اور یہ صفت دیگر صفات کی طرح خدا کے وجود کے ساتھ تھی۔سب سے پہلے خدا کی اس صفت کا ظہور ہوا اور خدا کے کن کہنے سے تمام موجودات ظہور میں آنے لگیں اور زندگی کا ظہور عمل میں آیا۔اور حقیقی زندگی خدا کا نور ہے جو انبیاء کے ذریعہ دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔یا وہ حقیقی نور ہے جس کے متعلق فرمایا کہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے مقدم ٹھہرا کیونکہ وہ مجھ سے پہلے ہے اور وجہ تخلیف کا ئنات ہے جیسا کہ وارد ہوا ہے لَولاک لما خَلَقْتُ الافلاک۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں کا ئنات کو تخلیق نہ کرتا۔