حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 255 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 255

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔255 ازل سے اس کے ساتھ ہے۔ہر چیز اس کے کلمہ کن سے پیدا ہوئی ہے۔کلمہ کن الوہی صفت ہے آگے لکھا ہے کہ حضرت مسیح بھی اس کلمہ کن کے ظہور ہیں۔کلمہ مجسم ہوا اور ہمارے درمیان رہا“ پس کلام کے مجسم ہونے میں اسطرف اشارہ ہے کہ کلام اور یسوع الگ الگ ہیں تجسم سے پہلے یسوع کلمہ نہ تھا۔ایک عظیم متفق آرا بیچ سٹرا چن انجیل یوحنا کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: کلام مجسم ہوا کے لفظ پر یسوع کی ذات کے اردگر د عیسائی الہیات کا تانا بانا بنا گیا ہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یوحنا خود تجسم خدا کے نظریہ سے واقف نہ تھا اس کا سادہ تصور یہ تھا کہ کلمہ جو کہ ازل سے موجود ہے انسانی صورت میں ظاہر ہوا۔“ (The Fourth Gospel by R۔H Strachan published by Christian Students Movements, London - 1959) اسی طرح انسائیکلو پیڈیا آف برٹین کا میں زیر لفظ یسوع یہ تحریر ہے کہ: دیباچہ انجیل میں حضرت مسیح کو خدا نہیں کہا گیا۔اور نہ لوگوں کو عبرانی اور یونانی فلسفہ میں خدا کے طور پر پیش کیا گیا ہے چنانچہ یوحنا کی ابتدائی آیات میں حضرت مسیح کو کلمہ از لی ثابت کرنے کیلئے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی گواہی میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔“ گواہی کے الفاظ ہیں : وہ جو میرے بعد آتا ہے مجھ سے مقدم ہے کیونکہ مجھ سے پہلے ہے۔“ ( یوحنا باب ۱ آیت ۱۵) ریوائز ڈایڈیشن کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ کچھ قدیم نسخوں میں یہ عبارت مختلف ہے ان نسخوں میں جو عبارت دی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بشارت میں حضرت یحیی کے الفاظ نہیں