حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 254
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل ابتداء میں اس نے خود کو ظاہر کیا۔یہ ذاتی ظہور وہ کلمہ تھا جو خدا کے ساتھ تھا اور خدا تھا ساری چیزیں اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں۔سریانی نسخہ پیشتیہ میں ہے: ابتداء میں کلمہ تھا اور یہی کلمہ خدا کے ساتھ تھا اور خدا وہ کلمہ تھا۔ہر چیز اس کے وسیلے 254 سے پیدا ہوئی۔آیات کا صحیح مفہوم ( ترجمه از جارج لیمزا ) ان تراجم سے ظاہر ہے کہ یہاں کلمہ سے مراد ہرگز حضرت مسیح علیہ السلام نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام ہے اور اس کا کلمہ کن مراد ہے جو کہ خدا کا سب سے پہلا ظہور ہے۔اور خدا تعالیٰ کا قول کبھی بے تاثیر نہیں ہوتا وہ کہتا ہے ” ہو جا تو ہو جاتا ہے اسی کن سے کائنات کا ظہور ہوا۔اور مسیح کا بھی جیسا کہ مریم کو جب فرشتے نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی اور کہا کہ جو قول خدا کی طرف سے ہے وہ ہر گز بے تاثیر نہیں ہوگا تو آپ نے آگے سے جواب دیا اور کہا ” دیکھ میں خداوند کی بندی ہوں میرے لئے تیرے قول کے موافق ہو یہی خدا کا قول اور کلمہ ہے جو کن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور خدا کی مرضی دنیا میں ظہور پذیر ہوتی رہتی ہے۔جے بی فلپ کا ترجمہ بہت واضح ہے۔صرف اتنی ترمیم کی گنجائش ہے کہ تھیو آس“ کے معنی الوہی صفت کے ہیں کلمہ کو خدا نہیں کہا گیا بلکہ الوہی صفت کہا گیا ہے اس ترمیم کے ساتھ ترجمہ یوں ہوگا: ابتداء میں اللہ نے خود کو ظاہر کیا یہ خدائی ظہور وہ کلمہ تھا جو خدا کے ساتھ تھا اور وہ ( الوھی صفت تھا) ساری چیزیں اس کے وسیلے سے پیدا ہوئیں۔“ اس ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ کن یا اس کی صفتِ کلام اس سے جدا نہیں بلکہ