حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 252
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل وہ دنیا میں تھا۔دنیا اس کے وسیلے سے روشن ہوئی۔“ 252 (ڈائگلاٹ از واچ ٹاور بائیبل سوسائٹی ، انار کلی لاہور، پاکستان ) سریانی نسخہ انجیل پشتیہ میں بایں الفاظ ہے: ” وہ دنیا میں تھا اور دنیا اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔کتاب مقدس تر جمہ از جارج لیزا ) تیسرا فقرہ سریانی نسخہ چشتیہ میں بایں الفاظ ہے: اور کلام ختم ہوا اور ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اس کا جلال دیکھا ایسا جلال جو کہ فضل اور سچائی سے معمور ہے جیسے باپ کے پلو ٹھے کا جلال“۔ظاہر ہے کہ باپ کا پلوٹھا ہے۔بائیبل کے ریوائزڈ ورشن میں حاشیہ پر نوٹ دیا گیا ہے کہ: خدائے باپ کے اکلوتے کی بجائے ایک باپ کے اکلوتے بیٹے کی طرح بھی ترجمہ درست ہے۔جیمز بافٹ کٹلر ٹوکری جے بی فلپ کے ترجمہ اور اسی طرح Basic Bible اور بعض دیگر تراجم میں اس دوسری صورت کو ترجیح دی گئی ہے۔گویا یسوع کو یہاں خدا کا اکلوتا بیٹا نہیں کہا گیا بلکہ مراد یہ ہے کہ یسوع کا جلال ایسا تھا جیسے کسی باپ کے اکلوتے کی شان۔سریانی نسخہ میں اکلوتے کی بجائے پلوٹھے کے الفاظ ہیں اور بائیل میں انبیائے بنی اسرائیل کو خدا کا پلوٹھا بیٹا کہا گیا ہے۔جیسا کہ لکھا ہے: ”اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے۔(خروج باب ۱۴ آیت ۲۲) یہاں ایک پلوٹھا بیٹا ترجمہ کیا جائے تو یہاں اس صورت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی تخصیص باقی نہیں رہتی۔چوتھا فقرہ بھی قدیم نسخوں میں بہت مختلف ہے۔نیوانگلش بائییل جو کہ انگلستان کے کلیسیا اسکاٹ لینڈ کے کلیساء اور برطانیہ کے بڑے بڑے مذہبی اداروں کی طرف سے بڑی تحقیق کے بعد شائع ہوتی ہے اس کے حاشیہ پر متن کی مختلف صورتیں دی گئی ہیں۔اور عام ترجمہ یہ ہے: