حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 233 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 233

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 233 کیونکہ مثلاً یہ جب تین چیزیں۳۔۳ سیر فرض کی جائیں تو وہ سب ملکر 9 سیر ہوں گی۔یہ سخت اعتراض ہے۔جس سے قطعی طور پر حضرت مسیح کی الوہیت کا بطلان ہوتا ہے“ جنگ مقدس صفحه ۱۱۴- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) ساتویں دلیل: حضرت عیسی علیہ السلام کی بن باپ پیدائش کو بھی آپ کی الوہیت کیلئے دلیل بنایا جاتا ہے۔حالانکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بن باپ پیدائشیں ہوتی رہی ہیں جیسا کہ اس کتاب میں ہی ابتداء میں مسیح علیہ السلام کی بن باپ پیدائش کے تحت انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا سے چنگیز خان وغیرہ کی بن باپ پیدائشوں کی مثالیں دی گئی ہیں۔تا ہم قرآن کریم نے آپ کی پیدائش کو حضرت آدم کی پیدائش کا مثیل قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: یادر ہے کہ خدا نے بے باپ پیدا ہونے میں حضرت آدم سے حضرت مسیح کو مشابہت دی ہے۔اور یہ بات کہ کسی دوسرے انسان سے کیوں مشابہت نہیں دی یہ محض اس غرض سے ہے کہ تا ایک مشہور متعارف نظیر پیش کی جاتی کیونکہ عیسائیوں کو یہ دعویٰ تھا کہ بے باپ پیدا ہونا حضرت مسیح کا خاصہ ہے اور خدائی کی دلیل ہے۔پس خدا نے اس حجت کو توڑنے کیلئے وہ نظیر پیش کی جو عیسائیوں کے نزدیک مسلم اور مقبول ہے۔چنانچہ انجیل میں حضرت آدم کو بھی خدا کا بیٹا قرار دیا گیا ہے۔“ تحفہ گولڑو یه صفحه ۱۲۲- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) اور اس کا بے باپ اور بے ماں ہونا تسلیم کیا گیا ہے چنانچہ مسیح کا نسب نامہ لکھتے ہوئے اس کے آخر میں لوقا نے لکھا ہے : اور وہ آدم کا بیٹا تھا (ناقل ) اور وہ ( یعنی آدم ناقل ) خدا کا بیٹا تھا۔“ (لوقا باب ۳ آیت ۳۸)