حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 224
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل شکر گزاری نہ کی بلکہ وہ باطل خیالات میں پڑ گئے ہیں اور ان کے بے سمجھ دلوں پر اندھیرا چھا گیا ہے وہ اپنے آپ کو دانا جتا کے بیوقوف بن گئے اور غیر فانی خدا کے جلال کو فانی انسانوں اور پرندوں اور چوپاؤں اور کیڑے مکوڑوں کی صورت میں بدل ڈالا۔“ 224 (رومیوں باب ۱ آیت ۲۱ تا ۲۳) ہے صَاحِبُ البيت أدرِى مَا فِيهِ یعنی گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔دلائل درباره تردید الوہیت مسیح علیہ السلام حضرت بانی جماعت احمد یہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی صداقت ثابت کرنے کیلئے اس زمانہ میں جو عظیم الشان امور سرانجام دیئے ہیں ان میں سے ایک عیسائی مذہب کے غلط عقائد اور باطل خیالات کا رڈ بھی ہے۔اس لئے آپ کے پیش کردہ دلائل ہی یہاں پیش کئے جائیں گے کیونکہ آپ ہی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کا سر صلیب ہیں۔الوہیت مسیح کا عقیدہ عیسائیت کیلئے رگ جان کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ ایک بنیادی اینٹ اور مرکزی نقطہ ہے جس پر عیسائیت کے عقائد۔تثلیث وکفارہ کی عمارت استوار ہوتی ہے۔پس اس ایک بنیاد کے غلط ثابت ہو جانے سے عیسائیت کے سب عقائد باطل قرار پاتے ہیں۔کیوں کہ جب مسیح علیہ السلام کی الوہیت ہی نہ رہی تو تثلیث خود بخود دٹوٹ گئی اور جہاں آپ کی بشریت ثابت ہوئی وہاں ہی آپ کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیکر اس سے نجات کیلئے کفارہ کا عقیدہ بنا لینے کا تارو پود بکھر گیا۔پہلی دلیل : ابطال الوہیت صحیح کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اوّل دلیل استقرائی کو بیان فرمایا ہے۔یہ دلیل آپ نے اپنے مباحثہ جنگ مقدس میں اول نمبر پر پیش فرمائی ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا خدایا خدا کے بیٹے کے طور پر دنیا میں