حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 221 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 221

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل تو نے روح القدس کے وسیلہ سے ہمارے باپ اپنے خادم داؤد کی زبانی فرمایا۔“ 221 (اعمال باب ۱۴ آیت ۲۵) ان حوالہ جات کی رو سے تمام انبیاء انسانوں کیلئے وسیلہ ٹھہرے پھر حضرت مسیح علیہ السلام کی فضیلت کہاں باقی رہی ! لغت کی کتب میں بھی وسیلہ کے یہی معنی لکھے ہیں۔الوسيلة ما يتقرب به الى الغير المنزلة عند الملوك۔الدرجة۔پس وسیلہ کے معنی مقرب الہی اور صاحب کے درج ہیں نہ کہ ذات الہی اور خدا کے۔بعض لوگ مسیح علیہ السلام کے مجرات کو بھی آپ کی الوہیت کے لئے بطور ثبوت پیش کرتے ہیں جب کہ ویسے ہی معجزات دیگر انبیاء اور صلحاء بھی جو کہ انسان تھے پیش فرماتے رہے۔مثلاً : مُردوں کو زندہ کرنا لو حلو الیسعیاہ نے مردے زندہ کئے۔( سلاطین باب ۴ آیت ۳۵) ہو ی حزقیل نے ہزاروں مردے زندہ کئے۔( حز قیل باب ۳۷ آیت ۱۰) (اسلاطین باب ۱۷ آیت ۲۲) ہے کہ ایلیا نے مردے زندہ کئے۔ہلے الیسعیاہ کی لاش نے ایک مردہ زندہ کیا۔(۲ سلاطین باب ۲۱ آیت ۲) موسیٰ اور ہارون نے لکڑی میں جان ڈالی۔( خروج باب ۷ آیت ۱۰) موسیٰ اور ہارون نے گردو غبار کو جوئیں بنایا۔(خروج باب ۷ آیت ۱۰) حمل حمله پطرس اور پولوس نے مردہ زندہ کیا۔(اعمال) انجیل سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ مردوں سے مراد روحانی مردے ہیں نہ کہ جسمانی اور زندگی سے مراد یسوع پر ایمان لانا ہے۔دیکھیں حوالے افسیوں باب ۲ آیت ۱ تا ۵۔یوحنا باب ۱۷ آیت ۴)