حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 220 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 220

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل۔معمور کیا۔“ پھر اعمال باب ۲ آیت ۱۷ میں ہے کہ: 220 ” خدا نے کہا آخری دنوں میں ایسا ہوگا کہ میں اپنی روح میں سے لیکر ان پر نظر 66 ڈالوں گا اور تمہارے بیٹے اور بیٹیاں نبوت کریں گی۔“ نیز دیکھیں: حر قیل باب ۳۷ آیت ۴ اگنتی باب ۲۴ آیت ۲ باب ۲۷ آیت ۱۸ خروج باب ۳۱ آیت ۳ دانیال باب ۴ آیت ۸-۹ یسعیاہ باب ۶۱ آیت انحمیاہ باب ۹ آیت ۳۰۔لوقا باب ۱ آیت ۳۵۔باب ۱ آیت ے۔بابا آیت ۱۰۔اعمال باب ۱۲ آیت ۴ کرنتھیوں باب ۱۳ آیت ۳۴) پس اس وجہ سے کہ آپ کو کلمتہ اللہ اور روح اللہ کہا گیا ہے از روئے قرآن کریم آپ کی الوہیت کو ثابت کرنا محال ہے جبکہ قرآن کریم صاف طور پر کہتا ہے: وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَثَهُ، اِنْتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ (سورة النساء: آیت ۱۷۲) کہ خدا تین ہیں نہ کہا کرو اس سے باز آ جاؤ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔" وسیلہ" کا لفظ ”انا جیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق استعمال ہوا ہے جس کو بھی بعض لوگ آپ کی خدائی کیلئے بطور دلیل کے پیش کرتے ہیں۔حالانکہ انا جیل میں وسیلہ بمعنی معرفت استعمال ہوا ہے جیسا کہ لکھا ہے: کیونکہ اس نے ایک دن ٹھہرایا ہے جس میں وہ راستی سے دنیا کی عدالت اس آدمی کی معرفت کرے گا جسے اس نے مقرر کیا ہے۔“ (اعمال باب ۱۷ آیت ۳۱ ) ' تب بھی تو بہت برس تک ان کی برداشت کرتارہا اور اپنی روح سے یعنی اپنے نبیوں کی معرفت سے انہیں سمجھا تارہا ہے۔“ نیز لکھا ہے: (نحمیاہ باب ۹ آیت ۳۰)