حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 218
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - ترجمہ: تو انہیں کہہ دے (کہ) اگر ( ہر ایک ) سمندر میرے رب کی باتوں (کے لکھنے ) کیلئے روشنائی بن جاتا ہے تو میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ( ہر ایک) سمندر ( کا پانی ختم ہو جا تا گو (اسے) زیادہ کرنے کیلئے ہم اتنا (ہی ) اور ( پانی سمندر میں ) ڈالتے۔218 کہ اگر سمندر خدا کے کلمات کیلئے سیاہی بن جائیں تو خدا کے کلمات ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہو جائیں۔اب اگر کلمہ سے مراد الہی ذات ہو تو پھر تو لاکھوں کروڑوں بلکہ بے شمار خدا مانے پڑیں گے۔حالانکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کو احد قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بھی فرماتا ہے : ثُمَّ سَوْهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ (سورة السجدة: آيت ١٠) ترجمہ: پھر اس کو مکمل طاقتیں دیں اور اس میں اپنی طرف سے روح ڈالی اور تمہارے لئے کان ، اور آنکھ ، اور دل بنائے۔مگر تم بالکل شکر نہیں کرتے۔نیز فرشتوں کو حکم دیا: فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِي فَقَعُوْالَهُ سَجِدِ يْنَ ٥ (سورة الحجر: آیت (۳۰) کہ جب میں اسے مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونکوں تو تم اس کے اعزاز کیلئے خدا کے حضور سجدہ میں گر جاؤ۔اب اگر عیسائی صاحبان قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کو روح منہ کہنے کی وجہ سے ذات الہ قرار دیتے ہیں تو پھر انہیں آدم کو بھی ذات الہ ماننا چاہئے کیونکہ قرآن کریم تو آدم میں بھی خدائی روح کارفرما بتاتا ہے جب قرآن کریم حضرت مسیح علیہ السلام