حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 211
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 211۔۔۔پھر وہ اپنے شاگردوں کو دکھائی دیا مگر ان کے کہنے پر بھی باقی شاگر د یقین نہ لائے۔(مرقس باب ۲۲ آیت ۱۲-۱۳) آخر وہ ان گیارہ شاگردوں پر ظاہر ہوا اور ان کی بے ایمانی اور سنگدلی پر ملامت کی کہ ( مرقس باب ۱۹ آیت ۱۴) وہ کیوں اس کے زندہ ہونے پر ایمان نہ لائے۔متی کہتا ہے کہ شاگرد آخر تک اس کے زندہ ہونے پر شک کرتے رہے ( باب ۲۸ آیت ۱۷) لوقا کہتا ہے فرشتوں نے عورتوں کو صاف کہا تھا کہ یسوع زندہ ہے۔( باب ۲۴ آیت ۲۳)۔۔۔شاگردوں کو یقین دلانے کیلئے کہ میں ہی ہوں ان کو کہا کہ مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا کہ مجھ میں جسم اور ہڈی دونوں دیکھتے ہو ساتھ ہی ہاتھ اور پیروں کے زخم دکھائے تا کہ یقین ہو جائے کہ مسیح جسم سمیت موجود ہے چنانچہ یسوع نے شاگردوں کو تسلی دی کہ وہ اس انسانی جسم کے ساتھ ہے اور مرا نہیں ہے۔شاگروں کو مزید اطمینان دلانے کیلئے ان سے بھونی ہوئی مچھلی لیکر کھائی۔(لوقا باب ۲۴ آیت ۴۱ تا ۴۳) تا کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ یونا نبی والا نشان جس کا وعدہ کیا گیا تھا اپنی پوری شان کے ساتھ پورا ہو چکا ہے جو اس کی سچائی کا ثبوت ہے اور یہودی پلان کے مطابق وہ صلیب پر مر کر ملعون نہیں ہوا بلکہ صلیبی موت سے بچکر مرفوع ہو گیا ہے۔اور وہ مقرب الہی ہے اور ان معنوں میں انجیل محاورہ کے مطابق خدا کا پیارا بیٹا ہے۔مکتوب یروشلم ۱۸۷۳ میں مصر میں اسکندریہ کے آثار قدیمہ میں ایک قدیم راہب خانے سے واقعہ صلیب سے تھوڑا ہی عرصہ بعد کا لکھا ہوا ایک خط ملا ہے۔جوایسینی فرقہ کے ایک راہب نے اپنے سلسلہ