حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 189
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - میرے پاس دو ثبوت ہیں ایک یہ کہ تمہاری کتابوں میں میری نسبت لکھا ہے کہ مسیح دراصل خدا کا بیٹا ہے بلکہ خود خدا ہے قادر مطلق ہے عالم الغیب ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اگر تم کو شبہ ہے تو لاؤ کتابیں پیش کرو میں ان کتابوں سے اپنی خدائی کا ثبوت تمہیں دکھلاؤں گا یہ تمہاری غلط فہمی ہے اور کم تو جہی اپنی کتابوں کی نسبت ہے کہ تم مجھے کا فرٹھہراتے ہو تمہاری کتابیں ہی تو مجھے خدا بنا رہی ہیں اور قادر مطلق بنا رہی ہیں پھر میں کافر کیوں کر ہوا بلکہ 189 تمہیں چاہے کہ اب تم میری پرستش اور سجدہ شروع کر دو کہ میں خدا ہوں۔منصفین سوچ لیں کہ کیا الزام دور کرنے کیلئے اور اپنے آپ کو حقیقی طور پر بیٹا اللہ تعالیٰ کا ثابت کرنے کیلئے یہ جواب تھا کہ اگر میں نے بیٹا کہلایا تو کیا حرج ہو گیا تمہارے بزرگ بھی خدا کہلاتے رہے ہیں۔اب اس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے حقیقی طور پر ابن اللہ ہونے کا خدا ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا اور اس دعوئی میں اپنے تئیں ان تمام لوگوں کو ہم رنگ قرار دیا اور ا سبات کا اقرار کیا کہ انہیں کی موافق یہ دعویٰ بھی ہے۔“ جنگ مقدس ص ۱۳۳ تا ۱۳۵ روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشرکۃ الاسلامہ ربوہ، پاکستان ) نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: حضرت مسیح علیہ السلام نے کسی جگہ تثلیث کی تعلیم نہیں دی اور وہ جب تک زندہ رہے خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتے رہے۔ان کا وہ کلمہ جو صلیب پر چڑھائے جانے کے وقت ان کے منہ سے نکلا توحید پر دلالت کرتا ہے انہوں نے نہایت عاجزی سے کہاایلی ایلى لما شبقتنى یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔کیا جو شخص اس عاجزی سے خدا کو پکارتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ خدا میرا رب ہے اس کی نسبت کوئی نظمند گمان کر سکتا ہے کہ اس نے درحقیقت خدائی کا دعوئی