حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 188 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 188

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - کرتا ہے پتھراؤ کرنا چاہا تو اس نے انہیں صاف کہا کہ کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا کہ تم خدا ہو اب ایک دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس الزام کے وقت تو چاہے تھا کہ مسیح اپنی پوری برئیت کرتے اور اپنی خدائی کے نشان دکھا کر انہیں ملزم کرتے اور اس حالت میں کہ ان پر کفر کا الزام لگایا گیا تھا تو ان کا فرض ہونا چاہئے تھا کہ اگر فی الحقیقت خدا یا خدا کے بیٹے تھے تو یہ جواب دیتے کہ یہ کفر نہیں بلکہ واقعی طور پر خدا یا خدا کا بیٹا ہوں اور میرے پاس اس کے ثبوت کیلئے تمہاری ہی کتابوں میں فلاں فلاں موقع پر صاف لکھا ہے کہ میں قادر مطلق ہوں عالم الغیب ہوں اور لاؤ میں دکھاؤں اور پھر اپنی قدرتوں اور طاقتوں سے ان کو خدائی نشانات بھی دکھا دیتے اور وہ کام جو انہوں نے خدائی کے پہلے دکھائے تھے ان کی فہرست الگ دے دیتے پھر ایسے بین ثبوت کے بعد کسی یہودی فقیہہ یا فریسی کی طاقت تھی کہ انکار کرتا وہ تو ایسے خدا کو سجدہ کرتے مگر بر خلاف اس کے آپ نے کیا تو یہ کیا کہ کہ دیا کہ تمہیں خدا لکھا ہے اب خدا ترس دل لیکر غور کریں یہ اپنی خدائی کا ثبوت دیا یا ابطال کیا۔“ 188 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۳۵ اروحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامہ ربوہ، پاکستان ) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: ” اب ظاہر ہے کہ ایسے موقعہ پر کہ جب حضرت مسیح یہودیوں کی نظر میں اپنے ابن اللہ کہلانے کی وجہ سے کا فر معلوم ہوتے تھے اور انہوں نے اس کو سنگسار کرنا چاہا تو ایسے موقع پر کہ اپنی بریت یا اثبات دعوی کا موقع تھا مسیح کا فرض کیا تھا ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اس موقع پر جو کہ کافر بنایا گیا حملہ کیا گیا سنگسار کرنے کا ارادہ کیا گیا۔تو مسیح کا کام تھا اول یہ کہ اگر حقیقت میں حضرت مسیح خدا کے بیٹے تھے تو یوں جواب دیتے کہ یہ میرا دعوی حقیقت میں سچا ہے اور میں واقعی طور پر خدا کا بیٹا ہوں اور اس دعویٰ کے ثبوت کیلئے