حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 182
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل ذکر کیا ہے: 182 وہ سراپا عشق انگیز ہے۔اے یروشلم کی بیٹیو! ( مگر یہ ترجمہ عربی بائیل کی نقل ہے جس میں بجائے محمد یم کے ملتا جلتا لفظ رکھ دیا گیا ہے۔یہ بھی تحریف کی ایک شکل ہے حالانکہ عبرانی میں لفظ محمد یم ہے۔چنانچہ لکھا ہے ): و كُلَّهُ مُحَمَّدِيْم هذا خَلِيلِى وَذَاحَبيبي بناتِ اور شليم۔عبرانی بائیبل غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۰) محمد یم میں دیم علامت جمع ہے جو بطور تعظیم کے استعمال ہوئی ہے۔انجیل یعنی بشارت میں خوشخبری کی منادی یہی تھی کہ اس محبوب خداوندی کا پتہ دیا جائے۔وہ محبوب خداوندی جس کی راہ سکتے تکتے بہت سے پاکباز گزر گئے۔جس کی بجلی کی ایک جھلک موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ پر دیکھی تو لرز گئے اور پہاڑ کہ عظمت شان کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو گیا جس کے متعلق پیشگوئیاں ابتداء سے سب خدا کے فرستادے کرتے آئے اور اسکی محبت اور شان اور مدح کے گیت حضرت داؤد علیہ السلام نے گائے۔اور اسے اپنا خداوند ٹھہرایا جسکی خاطر اللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق فرمایا وہ جو خدا کا پیارا اور خدا کے پیاروں کا پیارا تھا جس کے پیار میں خدا کے پیار کا انعام ملنا سہل ہوا۔جس نے مخلوق کو خالق سے جا ملایا۔وہ آسمان بادشاہت کا شہنشاہ جس کیلئے تمام انبیاء نوکروں کی طرح کام کرتے رہے اور اس کی راہ تیار کی کہ تاوہ اپنی بزرگی و عظمت کے تخت پر متمکن ہو۔اللَّهُم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُل ذَرِّةٍ مَائَةٍ الف الف مرة۔عظمت خانہ کعبہ کی طرف توجہ دلانا بھی حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک مشن تھا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھیکل سلیمانی تعمیر کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا: