حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 174 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 174

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔پس تم جاؤ اور سب قوموں کو شاگرد بناؤ۔174 ( متی باب ۲۸ آیت ۱۹) سب قوموں میں تو بہ اور گناہوں کی معافی کی منادی اس کے نام سے کی جائے گی۔اس آیت کے نیچے Peaks (مفسرانجیل ) نے لکھا ہے: (لوقا باب ۲۴ آیت ۴۸) بظاہر مسیح کا مشن سب اقوام کیلئے تھا۔لیکن کیا وجہ ہے کہ ابتدائی کلیسیا غیر اقوام میں تبلیغ کرنے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے تھے“۔در اصل سب قوموں اور غیر قوموں میں بڑا فرق ہے سب قوموں سے مراد منتشر قبائل یہود ہیں۔اور غیر قوموں کا مطلب تو ظاہر ہے کہ غیر اسرائیلی اقوام مراد ہیں جن کی طرف نہ جانے اور انہیں تبلیغ نہ کرنے کا حواریوں کو حکم تھا اسی لئے ابتدائی کلیسیا ہچکچاہٹ محسوس کرتا تھا۔چنانچہ رسولوں یعنی حواریوں کے متعلق لکھا ہے : مگر یہودیوں کے سوا کسی کو خدا کا کلام نہ سناتے تھے۔(اعمال بابا آیت ۱۹) چنانچہ ایک دفعہ جب غیروں میں منادی کی خبر رسولوں کو پہنچی تو انہوں نے شدید مخالفت کی چنانچہ لکھا ہے: ” اور رسولوں اور بھائیوں نے جو یہودیہ میں تھے سنا کہ غیر قوموں نے بھی خدا کا کلام قبول کیا جب پطرس یروشلم میں آیا تو مختون اس سے بحث کرنے لگے کہ تو نامتو نوں کے پاس گیا اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔“ (اعمال باب ال: آیات اتا۳ ) پس ان امور کے جائزہ کے بعد یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے متعلق پہلے سے تصور بھی یہی تھا کہ آپ صرف بنی اسرائیل کی تسلی اور نجات کیلئے مبعوث ہوں گے۔اسی بات پر آپ نے خود بھی عمل کیا اور حواریوں کو بھی حکم دیا اور ابتدائی رسولوں کا جو آپ کی تعلیمات سے خوب واقف تھے اور آپکے صحبت یافتہ تھے یہی طریق عمل رہا کہ اپنے مشن کو حضرت مسیح موعود علیہ