حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 157 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 157

157 حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل بولا گیا ہے اور تم کہتے ہو کہ میں کافر ہوں۔جب مجھ سے پہلے لوگوں کیلئے خدا کا لفظ استعمال ہوا اور وہ کافر نہ ہوئے بلکہ یہ سمجھا گیا کہ یہ استعارہ ہے جو استعمال کیا گیا ہے تو میرے لئے بیٹے کا لفظ استعمال کرنے میں کون سا قہر ہو گیا کہ تم نے مجھے کافر قرار دے دیا۔یہاں حضرت مسیح نے صاف طور پر اقرار کیا ہے کہ بائیبل میں جو انکے متعلق بیٹے کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ حقیقی بیٹے کے معنوں میں نہیں کیونکہ دوسروں کی نسبت خدا کا لفظ آتا ہے اور تم یہ کبھی نہیں کہتے کہ وہ واقعی خدا بن گئے تھے۔جب تم انہیں مشرک نہیں کہتے۔جب تم اس لفظ کے باوجود انہیں خدائی کا دعویٰ کرنے والے قرار نہیں دیتے تو مجھے کیوں کہتے ہو کہ میں نے یہ لفظ استعمال کر کے خدائی کا دعویٰ کر دیا ہے اور اس وجہ سے میں کافر اور سنگسار کئے جانے کے قابل ہوں ) اگر میں اپنے باپ کے کام نہیں کرتا تو میرا یقین نہ کرو( یعنی لفظی ہیر پھیر اور شرارتوں سے کام لینے کا کیا فائدہ؟ ) سوال یہ ہے کہ جو کام میں کرتا ہوں وہ خدا کی تو حید اور اس کے جلال کے اظہار کیلئے کرتا ہوں اگر میں تمام کام مواحد وں والے کرتا ہوں تو الہام میں اگر میرے متعلق خدا کے بیٹے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو بہر حال اس کے کچھ اور معنی کرنے پڑیں گے۔اور ضروری ہوگا کہ اس بارہ میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل میرے کاموں کو دیکھا جائے۔لیکن اگر میں کرتا ہوں تو گومیرا یقین نہ کرومگر ان کاموں کا تو یقین کرو تا کہ تم جانو اور سمجھو کہ باپ مجھ میں اور میں باپ میں ہوں انہوں نے پھر اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔(دیکھیں یوحنا باب ۱۰ آیات ۲۵ تا ۳۹) اس حوالے میں مسیح نے خود اپنے بیٹا ہونے کے معنی کر دیئے ہیں اور بتایا ہے کہ جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں خدا کا بیٹا ہوں تو میری مراد یہ نہیں ہوتی کہ واقعہ میں