حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 133
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل پھر لکھا ہے: کرتے ہیں۔“ ” میری ماں اور میرے بھائی تو یہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اس پر عمل اور مسیح علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ: 133 (لوقا باب ۸ آیت ۲۱) وہ ان دنوں میں جب شیطان ۴۰ دن تک آزما تا رہا تو ریت سے ہی اپنے لئے راہنمائی حاصل کرتے رہے اور شیطانی حربوں کو ناکام بناتے رہے۔“ اسی طرح وہ دعا پر بھی بہت زور دیتے تھے جیسا کہ: وَأَوْصَنِي بِالصَّلوة ( متی باب ۴ آیت اتا۱۱) (سورة مريم : آیت ۳۲) میں کہا گیا ہے اور اوصاهُ بِكَذا معنے ہوتے ہیں عَهَدَ إِلَيْهِ۔اس نے مجھے دعائیں کرنے کی بڑی زور سے تاکید کی ہے پس آپ مستقل طور پر بہت دعائیں کرنے کے عادی تھے۔لوقا باب ۲۲ آیت ۳۹ ۴۰ میں لکھا ہے: ” جب وہ تنہائی میں دعا کر رہا تھا اور شاگرداس کے پاس تھے۔اور ایسا ہوا کہ ایک جگہ دعا مانگتا تھا۔جب مانگ چکا۔ایک نے اس کے شاگردوں میں سے اس کو کہا اے خداوند ہم کو دعا مانگنا سکھا جبکہ یوحنا نے اپنے شاگردوں کو سکھایا اس نے ان سے کہا کہ جب تم دعا مانگو تو کہو۔۔۔پھر لکھا ہے: 66 (لوقا باب ۱۱ آیت ۱ تا ۲) اور وہ جان کنی میں پھنس کر بہت گڑ گڑا کے دعا مانگتا تھا اور پسینہ لہوکی بوند کی مانند ہوکر زمین پر گرتا تھا“۔(لوقا باب ۲۲ آیت ۴۴)